بتایا جائےپختونخو کے وزیراعلیٰ اورہمارے ارکان کہاں غائب ؟محمود اچکزئی
ڈپٹی سپیکر ایوان کے کسٹوڈین ، پروڈکشن آرڈر دینا انکا فرض، آزادانہ الیکشن کرائے جائیں:قومی اسمبلی میں خطاب تحفظ و برآمدی کنٹرول ،مترو کہ املاک، مراکز فضیلت ترمیمی بلز منظور، کورم پورا ہونے تک اجلاس ملتوی کرنا پڑا
اسلام آباد(نامہ نگار، اپنے رپورٹر سے )قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بتایا جائے کہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ اور ہمارے ارکان اسمبلی کہاں غائب ہیں ۔ قومی اسمبلی اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو تنگ کرنے کا کوئی شوق نہیں، آپ نے ایک صوبے کی پارلیمنٹ پہ حملہ کیا ہے ،حق رائے دہی کا مذاق اڑایا ہے ، ہمارے ایم این ایز مسنگ ہیں۔ بتایا جائے کہ خیبرپختونخوا کا وزیر اعلیٰ کہاں ہے ، زندہ ہے ؟۔انہوں نے ڈپٹی سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایوان کے کسٹوڈین ہیں۔ممبرز کا پروڈکشن آرڈر اورتحفظ دینا آپ کا فرض بناتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان جنید اکبر، نسیم شاہ، عادل بازئی اور عزیر خان سمیت دیگر قومی اسمبلی میں موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی رکن نے بدترین جرم بھی کیا ہو تو اس کے پروڈکشن آرڈرز حاصل کرنا سپیکر کی ذمہ داری ہے ۔ وہ اپنے ارکان کو اس ایوان میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں ایوان میں بولنے کا موقع دیا جائے ۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے ، صرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں کہی گئی بات پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی کارروائی ہونی چاہیے ۔ اگر ارکان کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا تو پارلیمان کا مقصد کیا رہ جائے گا۔ آپ جو قانون بنانا چاہتے ہیں بنائیں لیکن اس کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے ۔ اپوزیشن لیڈر نے جونہی اپنی تقریر ختم تو ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔قبل ازیں قومی اسمبلی نے محفوظ شدہ دستاویزاتی مواد (تحفظ و برآمدی کنٹرول ) (ترمیمی) بل 2026،مترو کہ املاک (انتظام و انصرام ) (ترمیمی) بل2026 اور مراکز فضیلت ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی۔ قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ آئی نائن میں سالڈ ویسٹ ڈپو کی تعمیر آئندہ دو سے تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے ، روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 700 میٹرک ٹن سالڈ ویسٹ منتقل کیا جا رہا ہے ، اسلام آباد سے روزانہ جمع ہونے والے کچرے کی مقدار تقریباً 300 میٹرک ٹن ہے ۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے آغاز پر وزرا کی عدم موجودگی اور کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کرنا پڑیا تاہم طویل انتظار کرنے کے بعد دوبارہ کورم پورا نکلا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments