پنجاب اسمبلی میں آٹے کی قیمتوں،گندم پالیسی اور ترقیاتی فنڈز پر بحث
حکومت کو عوامی مسائل کی پروا نہیں:معین ریاض ، فراڈ شکایات پر 90 نجی منڈیوں کے لائسنس منسوخ کردیئے :سلمیٰ بٹ اویس دریشک کاگنے کی کرشنگ شروع کرنے کامطالبہ ،اقبال خٹک کا فنڈز نہ ملنے کاشکوہ، 5 آرڈیننس پیش ،ایک ترمیمی بل منظور
لاہور (سیاسی نمائندہ) پنجاب اسمبلی اجلاس میں آٹے ،گندم کی قیمتوں، کسانوں کے مسائل، گنے کی کرشنگ، نجی منڈیوں میں مبینہ فراڈ اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر بحث ہوئی، جبکہ پوسٹ بجٹ عام بحث کا بھی آغاز کردیا گیا۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 833 ارب روپے خرچ کیے گئے ۔ وزیر خوراک سلمیٰ بٹ نے کہا کہ حکومت کے پاس آئندہ پانچ ماہ کیلئے 10 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم موجود ہے جبکہ فراڈ کی شکایات پر 90 نجی منڈیوں کے لائسنس منسوخ کئے گئے ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 56 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے حکومتی ارکان اور وزرا کی عدم موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آٹا مہنگا ہوچکا ہے ، لیکن حکومت کو عوامی مسائل کی پروا نہیں۔ انہوں نے چیف وہپ رانا محمد ارشد سے حکومتی کورم پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے بھی حکومتی ارکان کی اجلاس میں موجودگی ضروری قرار دی۔
وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن رکن سردار اویس دریشک نے کہا کہ کسان بدحالی کا شکار ہیں، اس لیے گنے کی کرشنگ فوری شروع کرائی جائے تاکہ گندم کی اگلی فصل کی تیاری کیلئے مناسب وقت مل سکے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاخیر سے گندم کا بحران دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ اپوزیشن رکن اعجاز شفیع نے کہا کہ آٹے کی قیمت 190 روپے فی کلو سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ گندم 5500 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے ۔ وزیر خوراک سلمیٰ بٹ نے کہا کہ حکومت نے اس مرتبہ خود گندم کے ذخائر جمع نہیں کیے ، تاہم پہلے سے موجود گندم دستیاب ہے ۔ گنے کی کرشنگ جلد شروع کرانے کیلئے کام جاری ہے ۔ اجلاس میں پانچ آرڈیننس پیش کیے گئے ، جبکہ قرآن پاک کی طباعت و ریکارڈنگ سے متعلق ترمیمی بل اور ڈرامائی و تھیٹر پرفارمنسز بل متعارف کرائے گئے ۔ سوسائٹی رجسٹریشن ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔پوسٹ بجٹ بحث میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ پہلی سہ ماہی کے 833 ارب روپے کے اخراجات میں 589 ارب روپے غیر ترقیاتی مد میں شامل ہیں۔ تنخواہوں پر 152 ارب، پنشن پر 117 ارب اور مقامی حکومتوں پر 16 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ سبسڈی کی مد میں 9 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے ۔ بعد ازاں ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس جمعہ دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments