آپ نے عدالت کے حکم کو فٹ بال بنا رکھا ہے : ہائیکورٹ

آپ نے عدالت کے حکم کو فٹ بال بنا رکھا ہے : ہائیکورٹ

ایک طرف معافی ، دوسری طرف وضاحت پر وضاحت دے رہے :چیف جسٹس سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر ریمارکس

لاہور( کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کو ریکارڈ سمیت 3 نومبر کو طلب کر لیا ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ڈی آئی جی ناصر عزیز کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے درخواست گزار کی سنیارٹی بارے فیصلہ دیا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ہائیکورٹ میں فیصلے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرکے توہین عدالت کی گئی درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ۔دوران سماعت عدالت نے جوائنٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کر دیا، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالتی حکم پر بیان حلفی کے ساتھ توہین عدالت کا جواب جمع کروا دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ غیر مشروط معافی کیساتھ کہہ رہے ہیں، عدالت کے حکم کی تعمیل میرا اختیار نہیں، آپ نے جواب میں جو وضاحت دی وہ قابل قبول نہیں،آپ نے عدالت کے حکم کو فٹ بال بنا رکھا ہے ، ایک طرف معافی مانگ رہے ہیں ،دوسری طرف وضاحت پر وضاحت دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو 3 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...