آڈٹ اعتراضات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے ،حلیم عادل
سندھ کے مختلف محکموں میں 836 ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں پر اظہار تشویش
کراچی (اسٹاف رپورٹر)تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ میں سندھ حکومت کے مختلف محکموں میں 836 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آڈٹ اعتراضات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہوا، سندھ حکومت آڈٹ اعتراضات کا شفاف جواب دے ۔ رپورٹ میں اربوں روپے کی ریکوری، سرکاری ریکارڈ کی عدم فراہمی، بھرتیوں، خریداری، ترقیاتی منصوبوں اور اندرونی مالیاتی کنٹرول سے متعلق بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ صحت، تعلیم، آبپاشی، توانائی اور ورکس اینڈ سروسز جیسے اہم محکموں میں آڈٹ اعتراضات سامنے آنا عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ سرکاری خزانے کے استعمال میں خامیوں کا ذمہ دار کون ہے اور ان کے ازالے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ جہاں مالی نقصان یا بدعنوانی ثابت ہو وہاں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی، سرکاری رقوم کی ریکوری اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آڈٹ اعتراضات کو حتمی طور پر ثابت شدہ کرپشن قرار دینے کے بجائے ہر معاملے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں، تاہم سندھ حکومت عوامی خزانے کے تحفظ، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments