سپریم کورٹ فیصلوں کے پابند نہیں، صرف قائل کرنے والی حیثیت :وفاقی آئینی عدالت

سپریم کورٹ فیصلوں کے پابند نہیں، صرف قائل کرنے والی حیثیت :وفاقی آئینی عدالت

نظرثانی کا دائرہ اختیار انتہائی محدود، درخواست صرف ایسی غلطی کی بنیاد پر دائر ہو سکتی جو واضح یا اس سے انصاف کا قتل عام ہوا فضول نظرثانی پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کیخلاف کارروائی ہو سکتی:فیصلہ، بلوچستان ٹریڈنگ کی درخواست مسترد، سکیورٹی ضبط

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی لیز کی بحالی اور قبضے سے متعلق نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمع شدہ 50 ہزار روپے سکیورٹی ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وفاقی آئینی عدالت کیلئے صرف قائل کرنے والی حیثیت ہے ، وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں تاہم آئین اور قانون سے ہم آہنگ قانونی نظیروں کو رہنمائی کیلئے اختیار کر سکتی ہے ۔ عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ نظرثانی کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہے ۔ نظرثانی صرف ایسی غلطی یا کوتاہی کی بنیاد پر ممکن ہے جو ریکارڈ پر واضح ہو یا اس سے انصاف کا قتل عام ہوا ہو۔ معمول کے طور پر نظرثانی درخواستیں دائر کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ فضول یا بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست دائر کرنے پر کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد جبکہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ہو سکتی ہے ۔ درخواست خارج ہونے یا فضول اور بدنیتی پر مبنی قرار پانے پر سکیورٹی ضبط کی جا سکتی ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...