مولانا کا گھر بے نامی یا نیک نامی، حکومت حقائق بتائے ،حیدری

 مولانا کا گھر بے نامی یا نیک نامی، حکومت حقائق بتائے ،حیدری

محسن نقوی سے اچھے تعلقات رہے ،ان کی شادی میں بھی شریک ہوئے تھے ماضی میں ترقیاتی فنڈز کے حصول کیلئے ملازمین کو کمیشن دینا پڑتا تھا،میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو نوٹس دیا جانا حکومت کے ہلکے پن کاثبوت ہے ۔ حکومت دھمکیا ں دینے کے بجائے تفصیلات سامنے لائے ۔ مولانا فضل الرحمن کا گھر بے نامی ہے یا نیک نامی، حکومت حقائق عوام کے سامنے لے آئے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ میں اور مولانا فضل الرحمن ان کی شادی میں بھی شریک ہوئے تھے لیکن اب محسن نقوی کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ۔ ہم ملک کے لیے بغیر تنخواہ کے قربانیاں دے رہے ہیں۔ غفور حیدری نے کہا کہ ماضی میں ارکانِ پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز کے حصول کے لیے سرکاری ملازمین کو پانچ فیصد کمیشن دینا پڑتا تھا، تاہم اب کمیشن کی یہ شرح کہیں زیادہ ہو گئی ہوگی۔ جب سرکاری ملازمین سے پوچھتے تھے کہ پانچ فیصد کمیشن کس مد میں لیا جا رہا ہے تو جواب ملتا تھا کہ یہ رقم کاغذ اور پنسل کے لیے لی جاتی ہے ۔ ہم ان سے سوال کرتے تھے کہ ارکانِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی فنڈز سے اتنی بڑی رقم کاٹ کر کیا صرف کاغذ اور پنسل ہی خریدے جاتے ہیں؟۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...