ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے بڑھنے کی توقع، بینک سائبر سکیورٹی نظام مؤثر بنائیں:وزیر خزانہ

ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے بڑھنے کی توقع، بینک سائبر سکیورٹی نظام مؤثر بنائیں:وزیر خزانہ

بینکوں کو ڈیپازٹس سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ، بینکس ایسوسی ایشن اور لمز کے مکالمے سے خطاب بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر خزانہ کی ملاقات، معاشی تعاون بڑھانے اورمشترکہ معاشی چیلنجزپر تجربات کے تبادلے پر اتفاق

 لاہور،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرضوں کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لے رہا ہے اور اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے ۔ رواں مالی سال ترسیلات زر کا حجم 44 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے ۔بینک سائبر سکیورٹی نظام مؤثر بنائیں،بینکوں کو صارفین کے ڈیپازٹس سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، تجارت یا انہیں  اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیراہتمام لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے اشتراک سے ‘‘ڈیجیٹل اثاثوں پر مکالمہ اور مستقبل کی بینکاری’’ کے موضوع پر مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو ایسی مالیاتی جدت کی ضرورت ہے جو کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنانے میں مدد دے ۔ ڈیجیٹل اثاثوں کو بھی مالیاتی نظام میں اپنی افادیت حقیقی معاشی نتائج کے ذریعے ثابت کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ترسیلات زر کا شعبہ ٹوکنائزیشن کے اہم ممکنہ استعمالات میں شامل ہیں۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں اور توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام پر ترسیلات زر کا مجموعی حجم 44 ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا۔ انہوں نے بینکوں کی قیادت پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں عملی اور قابلِ عمل تجاویز پیش کریں، متعلقہ ٹیکنالوجیز میں مہارت پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کریں اور ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر اپنے دائرہ اختیار میں قابلِ اجازت سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بینکوں کو اپنے سائبر سکیورٹی نظام کو مؤثر بنانا اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔

وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا پاکستان کو دنیا میں تشکیل پانے والے نئے مالیاتی ڈھانچے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے ۔انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ جدت پسند اداروں اور ماہرین کے لیے ترقی کے نئے مواقع فراہم کریں۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک سلیم اﷲ، کمشنر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن امتیاز حیدر اور جے پی مورگن کے عالمی شعبہ ادائیگیوں کے کو ہیڈ عمر فاروق نے بھی اظہار خیال کیا۔چیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ظفر مسعود نے کہاپاکستان کے بینک اس تبدیلی سے تحفظ نہیں چاہتے بلکہ ایسی واضح ریگولیشنز چاہتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ مستقبل کی تیاری کر سکیں۔لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر علی چیمہ نے تحقیق، پالیسی سازی اور صنعتی شعبے کے عملی تجربات کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔علاوہ ازیں بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و منصوبہ بندی راشد المحمود تیتومیر نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون بڑھانے اورمشترکہ معاشی چیلنجزپر تجربات کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان متعلقہ اداروں کے درمیان تکنیکی سطح پر روابط اور تجربات کے تبادلے میں تعاون کرے گا۔ 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...