لگژری کے سوا تمام گاڑیاں سستی کرنے کا اعلان

لگژری کے سوا تمام گاڑیاں سستی کرنے کا اعلان

ای وی پر 1 ، رینج ایکسٹڈڈ 6، پلگ ان ہائبرڈ پر 9 فیصد سیلز ٹیکس،IMF سے منظوری لینگے :ہارون اختر نئی آٹو پالیسی سے درآمدی پٹرولیم بل کم ہوگا، الیکٹرک سٹیشن کیلئے کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ :عطا تارڑ

 اسلام آباد (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،اے پی پی )وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر نے کہا ہے کہ طویل مشاورت کے بعد نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی گئی جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج  کمی آئے گی جبکہ آٹو سیکٹر کی برآمدات کو 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ نئی پالیسی کا مقصد گاڑیوں کو عام شہریوں کی پہنچ میں لانے کے ساتھ ایندھن کی درآمدات پر اخراجات اور ماحولیاتی آلودگی کم کرنا ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی چھ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے جن میں متوسط اور کم متوسط طبقے کے لیے سستی گاڑیاں، برآمدات کا فروغ، مقامی پیداوار، گاڑیوں کا تحفظ، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور شفافیت شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی کے تحت پانچ سال میں 6 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ نئی پالیسی میں 45 اضافی حفاظتی معیارات شامل کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد، اسمبلی پلانٹس اور گاڑیوں کے پرزوں پر عائد ڈیوٹیز میں ہر سال بتدریج کمی کی جائے گی جس کے نتیجے میں پانچ سال بعد مسابقتی ٹیرف نافذ ہوں گے ۔ لگژری گاڑیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی۔ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ نئی آٹو پالیسی کی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے منظوری ہونا باقی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی تین مختلف شرحیں تجویز کی ہیں۔ مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر نو فیصد سیلز ٹیکس ہوگا۔

تاہم ان مجوزہ شرحوں پر عمل درآمد آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔چارجنگ سٹیشنز کی مشینری پر سیلز ٹیکس ایک فیصد اور کسٹمز ڈیوٹی صفر ہوگی جبکہ کمرشل انجن والی بڑی گاڑیوں پر اضافی ڈیوٹی لگے گی۔ان کے مطابق 50 ہزار ڈالر تک قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں ہوگی جبکہ اس سے زیادہ قیمت والی گاڑیوں کو لگژری تصور کرتے ہوئے ان پر معمول کے ٹیکس نافذ ہوں گے ۔حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بینک فنانسنگ کی حد بڑھانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے ۔ ہارون اختر خان کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت عام گاڑیوں کے لیے دستیاب 30 لاکھ روپے تک کی فنانسنگ کی حد الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کی جائے گی جبکہ قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2030 تک نئی گاڑیوں میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچانے کا حکومتی ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل ہونے کے قریب ہے ۔نئی پالیسی کے تحت گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے مقامی سطح پر پیداوار کے اہداف مقرر کیے جائیں گے ، جنہیں پورا کرنا لازمی ہوگا۔ ہارون اختر خان کے مطابق برآمدات بڑھانے کے لیے انعامات اور جرمانوں کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ برآمدکنندگان کو مقامی ٹیکسوں اور لیویز کی واپسی کی سکیم (DLTL) کے تحت پانچ فیصد مراعات دی جائیں گی جبکہ برآمدات میں اضافے کے ساتھ مزید 10 فیصد مراعات بھی دستیاب ہوں گی۔ تاہم ان مراعات کا حصول برآمدات اور مقامی پیداوار کے مقررہ اہداف حاصل کرنے سے مشروط ہوگا۔ہارون اختر خان نے خبردار کیا کہ اگر اہداف حاصل نہیں کیے گئے تو جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو برآمدات اور مقامی تیاری، دونوں کے مقررہ اہداف پورے کیے بغیر ڈی ایل ٹی ایل کی مراعات نہیں ملیں گی۔ان کے مطابق وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ملک میں مزید پیداواری پلانٹس قائم ہوں تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ہارون اختر خان نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی میں اقوام متحدہ کے گاڑیوں سے متعلق ضوابط کے نظام WP.29 کے مطابق 45 اضافی حفاظتی معیارات شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حفاظتی معیارات پر پورا اترنے کے بعد پاکستان میں تیار اور استعمال ہونے والی گاڑیاں دنیا کی محفوظ ترین گاڑیوں میں شمار ہوں گی۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی سے درآمدی پٹرولیم میں کمی ہوگی اور چارجنگ سٹیشن لگانے پر کسٹمز ڈیوٹی نہیں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی میں کم آمدنی والے صارفین کی ضروریات کا بھی خیال رکھا گیا ہے اور ایک ہزار سی سی سے کم انجن والی پٹرول گاڑیوں کو مجوزہ تبدیلیوں سے الگ رکھا گیا ہے ۔نئی پالیسی میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور سکوٹرز کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ ان کے مطابق ان گاڑیوں کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی جبکہ کاربن کریڈٹس کے ذریعے معاشی فوائد بھی حاصل کیے جا سکیں گے ۔عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ضروری ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر بڑھتے ہوئے اخراجات ملکی معیشت اور عام شہریوں پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔ پالیسی کے ذریعے مقامی صنعت میں جدت، مصنوعات کی قدر میں اضافے اور مقامی تیاری کو فروغ دیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...