دباؤ میں لا کر بیانیہ تبدیل نہیں کرایا جا سکتا:فضل الرحمن
سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں ، کردار کشی کیلئے نوٹس اچھال رہے
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ الحمدللہ!34 سال سے سیاست کر رہا ہوں، آج تک کسی عدالت کے پیش نہیں ہوا، پوری سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں بنا، میری کردار کشی کیلئے نوٹس اچھالے جا رہے ہیں، کون پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ جو نامعلوم ہیں یہ سب ہمیں معلوم ہے ، احتساب کے ادارے صرف انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ ہمیں دباؤ میں لا کر اپنا بیانیہ تبدیل نہیں کرایا جا سکتا، صوبوں کے وسائل، معدنی ذخائر، سمندری ساحل اور جزائر عوام کی ملکیت ہیں، قوم کو اعتماد میں لیے بغیر صوبوں کے حقوق اور وسائل پر فیصلے قبول نہیں کریں گے ، ہمیں مطمئن کرو، ہماری تشویش دور کرو، قوم کے تحفظات کا جواب دو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلبہ اور اساتذہ، دونوں کو اپنے اجتماعات منعقد کرنے سے روک دیا، حکومت اپنے اقدامات سے خود اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے ،ان اقدامات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے ہم بڑے بدعنوان لوگ ہیں ، میڈیا میرا اصل مؤقف بھی قوم کے سامنے لائے ، حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا دس بیس سال میں لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے ۔میرے خاندان، جماعت کے اہم ذمہ داروں اور کاروباری ساتھیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حق کی آواز کسی صورت نہیں روکیں گے ، دینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، آج وفاداری کا معیار وطن سے محبت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے ، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے باوجود دہشت گردی بڑھ رہی ہے ،صوبوں کے وسائل پر قبضہ اور این ایف سی ایوارڈ میں کمی کی کوششیں ہو رہی ہیں ،ہمیں اشتعال دلانے کے حربے پہلے بھی ناکام ہوئے اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments