کرکٹ کی روح کو چیلنج کرنے والے متنازعہ واقعات

کرکٹ کی روح کو چیلنج کرنے والے متنازعہ واقعات

لاہور(سپورٹس ڈیسک)بنگلا دیش کے خلاف حالیہ میچ میں پاکستانی بیٹر سلمان علی آغا کے ایک غیر معمولی رن آؤٹ نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔اگرچہ یہ آؤٹ کرکٹ کے قوانین کے مطابق تھا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کھیل کی روایتی سپورٹس مین شپ اور سپرٹ آف کرکٹ کے خلاف تھا۔

مختلف مواقع پر ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے اس کھیل کی روح کو سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا۔ان میں سب سے پہلے 33-1932 کی بدنام زمانہ باڈی لائن سیریز نمایاں ہے ، جب انگلینڈ کے کپتان ڈگلس جارڈین نے آسٹریلوی بیٹرز کو ڈرانے کے لیے تیز باؤلرز کو جسم پر گیندیں پھینکنے کی حکمت عملی اپنائی۔ 1979 میں آسٹریلوی بولر روڈنی ہاگ کو اس وقت آؤٹ قرار دیا گیا جب پاکستانی بیٹر جاوید میاندادنے ایک نو بال کے بعد گیند اٹھا کر سٹمپس گرا دئیے ،1981-82 کے آسٹریلیا دورے کے دوران ڈینس للی اور جاوید میانداد کے درمیان تلخ جھڑپ ہوئی۔ اسی سال ایک روزہ میچ میں آسٹریلیا کے کپتان گریگ چیپل نے اپنے بھائی ٹرورچیپل کو آخری گیند انڈر آرم پھینکنے کی ہدایت دی تاکہ نیوزی لینڈ کو چھکا مارنے کا موقع نہ مل سکے ۔ اس اقدام کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔1995 میں آسٹریلوی امپائرڈیرل ہئیر نے سری لنکا کے سپنرمرلی دھرن کو 7 مرتبہ نو بال قرار دیا، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ان کا بازو غیر قانونی انداز میں مڑتا ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں