پی ایس ایل کھلاڑیوں کے حقوق و شفا فیت میں بازی لے گئی

 پی ایس ایل کھلاڑیوں کے حقوق و شفا فیت میں بازی لے گئی

کم از کم تنخواہ ،گورننس ، کمرشل رائٹس ،سکیورٹی ریویو اور رائٹ ٹو آرگنائز کے حوالے سے بھی پی ایس ایل انڈین پریمیئر لیگ سے کئی شعبوں میں بہتر

لاہور(سپورٹس ڈیسک )ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ رپورٹ کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے اگرچہ بھارت کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) مجموعی درجہ بندی میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے آگے ہے ، تاہم کھلاڑیوں کے حقوق، معاہدوں کی شفافیت اور گورننس کے بیشتر شعبوں میں پی ایس ایل کا نظام زیادہ مضبوط اور متوازن ہے ۔ڈبلیو سی اے کی رپورٹ میں تیسرے نمبر پر موجود آئی پی ایل کو 62.6 جبکہ پانچویں نمبر کی پی ایس ایل کو 48.0 پوائنٹس دیئے گئے تھے لیکن اس فرق کی بنیادی وجہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں کو دی جانے والی غیر معمولی اہمیت ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی اوسط ہفتہ وار آمدن 59,041 امریکی ڈالر ہے ، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اسی بنیاد پر اسے اس کیٹیگری میں آئی پی ایل کو مکمل سکور ملا۔

اس کے برعکس پی ایس ایل میں اوسط ہفتہ وار آمدن 16,579 ڈالر ہے ، جو آئی پی ایل کے مقابلے میں تقریباً 28 فیصد بنتی ہے ، یہی فرق مجموعی سکور میں 30 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں خلا پیدا کرتا ہے ۔ کم از کم تنخواہ کے معاملے میں پی ایس ایل نسبتاً بہتر نظر آتی ہے ، جہاں کھلاڑیوں کو تقریباً 3,868 ڈالر ہفتہ وار ملتے ہیں، جو عالمی معیار کا 36.8 فیصد ہے ، جبکہ آئی پی ایل میں یہ رقم تقریباً 2,300 ڈالر یعنی 22فیصد ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پی ایس ایل اپنی کل آمدن کا تقریباً 32 فیصد کھلاڑیوں کو دیتا ہے جبکہ آئی پی ایل میں یہ شرح صرف 8 فیصد ہے ۔گورننس اور کھلاڑیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی پی ایس ایل کئی شعبوں میں بہتر ثابت ہوئی ہے۔

تنازعات کے حل کے نظام کو پی ایس ایل میں آزاد اور غیر جانبدار قرار دیا گیا ، اس کے مقابلے میں آئی پی ایل کا نظام زیادہ تر اندرونی ہے ، جس پر جانبداری کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔معاہدوں کے حوالے سے بھی واضح فرق موجود ہے ۔ پی ایس ایل میں معاہدوں کو زیادہ متوازن اور یکطرفہ شقوں سے پاک قرار دیا گیا ہے ، کلیکٹو بارگیننگ کے معاملے میں بھی پی ایس ایل کو برتری حاصل ہے ، جہاں کھلاڑیوں کی نمائندگی کے کچھ شواہد موجود ہیں، جبکہ آئی پی ایل میں اس نوعیت کا کوئی مضبوط یا آزاد ڈھانچہ موجود نہیں۔اسی طرح کھلاڑیوں کے کمرشل رائٹس کے حوالے سے بھی پی ایس ایل کا نظام نسبتاً بہتر ہے ،سکیورٹی ریویو اور رائٹ ٹو آرگنائز جیسے شعبوں میں بھی پی ایس ایل بہتر کارکردگی دکھاتی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں