سائیکلسٹ نتالیہ کی موت غیر قانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ سے ہوئی
والد کا نجی کلینک پر الزام،ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو درخواست دیدی
لاہور (سجاد کاظمی سے )نیشنل سائیکلسٹ چیمپئن نتالیہ خان کی موت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے ، جہاں ان کے والد بشارت خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بیٹی کی موت مبینہ طور پر غیر قانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ کے باعث ہوئی ہے ۔ اس حوالے سے انہوں نے پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (پی ہوٹا) کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے ، جس میں نجی کلینک اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔درخواست کے مطابق بیٹی کو لاہور کے ایک نجی کلینک کے ذریعے مبینہ طور پر بہلا پھسلا کر اسلام آباد میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کروانے کی ترغیب دی گئی، جہاں ان سے علاج اور ٹرانسپلانٹ کے نام پر 82 لاکھ وصول کیے گئے ۔بشارت خان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے انہیں ڈونر کا نامکمل اور جعلی ریکارڈ فراہم کیا اور پورے عمل میں حقائق چھپائے گئے ۔ترجمان پی ہوٹا کے مطابق کارروائی شروع کر دی گئی ہے ،ابتدائی معلومات کے مطابق نتالیہ خان کی موت مبینہ غیر قانونی ٹرانسپلانٹ سے ہی ہوئی ہے ، جبکہ متعلقہ ہسپتال انتظامیہ نے بھی اس حوالے سے بعض حقائق تسلیم کیے ہیں۔