اسمگلنگ روک لی جائے تو قرضے نہیں لیناپڑینگے ،لاہور چیمبر
بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے جو قرضے لیے جاتے ہیں ان سے معیشت کو بھاری نقصان پہنچتا ہے
ہر سال بجٹ کا بہت بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی پر صرف ہوجاتا ہے ،صدر شیخ ارشد لاہور(نمائندہ دنیا)لاہور چیمبرکے صدر شیخ ارشد نے کہا ہے کہ اگر قومی معیشت کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان پہنچانے والی اسمگلنگ پر قابو پا لیا جائے تو خسارے کا بجٹ پیش کرنے یا پھر بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے قرضے لینے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے جو قرضے لیے جاتے ہیں ان کی وجہ سے معیشت کو بھاری نقصان پہنچتا ہے کیونکہ ہر سال بجٹ کا بہت بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی پر صرف ہوجاتا ہے ، اگر یہ رقم بچ جائے تو ملک کو توانائی، انفرااسٹرکچر، سڑکوں کی تعمیر اور تعلیم و صحت کیلئے وافر سرمایہ میسر آسکتا ہے ،اگر اسمگلنگ کے ناسور پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں تومعیشت کو سالانہ اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا اور مقامی صنعت بھی ترقی کریگی۔انہوں نے کہا کہ اپنے وسائل میں اضافہ ہونے سے قرضوں پر انحصار بہت کم ہوگا اور حکومت بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں و سود کی ادائیگی کے بجائے ترقیاتی و پیداواری منصوبوں پر خرچ کرسکے گی۔ چیمبر کے صدر نے کہا کہ اسمگل شدہ مال کی چیکنگ کے نام پر مارکیٹوں کے باہر ناکے لگاکر تاجروں کو پریشان و ہراساں کرنا حل نہیں، ضروری ہے کہ بارڈرز پر جدید مانیٹرنگ سسٹم لگاکر غیرملکی مصنوعات کو ملک میں اسمگل ہونے سے روکا جائے ۔