امریکا کے انٹرسیپٹرز پہلے ختم ہونگے یا ایران کے میزائل

 امریکا کے   انٹرسیپٹرز  پہلے ختم ہونگے یا ایران کے میزائل

واشنگٹن (اے ایف پی) حالیہ دنوں میں امریکی فورسز نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی سینکڑوں تعداد کو مار گرایا ہے ، جس سے یہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ امریکی فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کے ذخیرے ایک ایسی جنگ میں کتنی دیر تک چل سکیں گے جو ہفتوں یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

میزائل روکنے میں انٹر سیپٹرز کا تجربہ کامیاب رہا ، دشمن کے میزائلوں کو اپنے ہدف پر لگنے نہیں دیا گیا ،لیکن اس کی بڑی قیمت بھی ادا کرنی پڑی، کیونکہ مہنگے اور جدید انٹرسیپٹرز بہت کم ہیں ۔ سٹمسن سینٹر کی تجزیہ کار کیلی گریکو کا کہنا تھا کہ خطرہ یہ ہے امریکہ اور اس کے دوست ممالک کے پاس میزائل روکنے والے مہنگے راکٹ ایران کے میزائلوں سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے ، حالانکہ یہ بات پوری طرح یقینی نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے وقت اسرائیل کا اندازہ تھا کہ ایران کے پاس تقریباً 2500 بڑے فاصلے والے میزائل ہیں ، جو تقریباً یقینی طور پر اسرائیل اور امریکا کے پاس موجود تمام میزائل روکنے والے راکٹس کی کل تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ گریکو نے کہا کہ یورپ اور انڈو پیسیفک سے لے کر مشرق وسطٰی تک ہر محاذ کو مزید میزائل دفاعی لانچرز اور انٹرسیپٹرز کی شدید ضرورت ہے ، اور امریکا انہیں اس سے زیادہ تیزی سے استعمال کر رہا ہے جتنی تیزی سے نئے تیار کیے جاسکیں ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں