ٹو بہ :خواتین کی عدالتوں سے طلاق کے دعوے بڑھ گئے
50 فیصد سے زائد دعوے شادی کے ایک سے تین ماہ کے دوران ہی دائر کئے گئے
ٹو بہ ٹیک سنگھ (ڈسٹرکٹ رپورٹر )خواتین کی طرف سے عدالتوں کے ذریعے شوہروں سے طلاق حاصل کرنے کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ سال کے دوران مقامی عدالتوں میں طلاق اور بچوں کے ماہانہ خرچ کے دعوے گذشتہ سالوں کے مقابلے دوگنا سے بھی زیادہ دائر ہوئے ۔خواتین نے شوہروں کے ظلم و تشدد سے تنگ آ کر تنسیخ نکاح کے دعوے دائر کیے اور فیصلہ ہونے تک دارالامان میں قیام اختیار کیا۔ نوجوان لڑکیاں جو پسند کی شادی کی خواہشمند تھیں لیکن والدین کے عدم رضامندی کے باعث گھر چھوڑ کر دارالامان پہنچیں، عدالت میں شادی کر کے شوہر کے ساتھ رہ گئیں۔17 سے 21 سال عمر کی لڑکیوں نے پسند کی شادیاں کیں، مگر مختلف وجوہات کی بناء پر اپنے شوہروں کے خلاف سنگین الزامات کے ساتھ طلاق کے دعوے دائر کیے ۔ 50 فیصد سے زائد دعوے شادی کے ایک سے تین ماہ کے دوران ہی دائر ہوئے ۔انٹرنیٹ پر دوستی، موبائل فون کا غلط استعمال، انڈین ڈرامے ، کم جہیز، بیٹے کی پیدائش میں ناکامی، الگ رہائش کی خواہش، اور شوہروں کا نشہ طلاق کی بڑھتی شرح کی بڑی وجوہات ہیں۔