ختم نبوت سیمینار، 1984 کے آرڈیننس پر عملدرآمد کا مطالبہ
بعض حلقوں کی جانب سے اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا: مقررین کا موقف
چناب نگر (نامہ نگار )مرکز ختم نبوت جامعہ عثمانیہ ختم نبوت چناب نگر میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ 26 اپریل 1984 کو جاری ہونے والے امتناع قادیانیت آرڈیننس پر مؤثر اور سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔مقررین نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مطابق متعلقہ قانون کے نفاذ میں کمزوری پائی جاتی ہے ، جس کے باعث بعض حلقوں کی جانب سے اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اور 1974 کی آئینی ترمیم کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے ، لہٰذا انہیں قانون کے مطابق اپنی آئینی حیثیت کا احترام کرنا چاہیے ۔سیمینار میں یہ بھی کہا گیا کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ قانون کے تمام پہلوؤں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور اس حوالے سے نگرانی کا نظام مزید بہتر بنایا جائے ۔مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دینی و مذہبی حلقوں میں اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے ، اور تمام مسائل کا حل آئینی و قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے ۔آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ ختم نبوت کے عقیدے کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور اس مقصد کے لیے پرامن اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔