ہیٹ سٹروک ریلیف کیمپس سہولتوں سے محروم

ہیٹ سٹروک ریلیف کیمپس سہولتوں سے محروم

کیمپس صرف بینرز اور پانی کے کولرز تک محدود، ڈاکٹرز ، ادویات غائب، نوٹس کا مطالبہ

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) شدید گرمی کی لہر اور 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قائم کیے گئے ہیٹ سٹروک ریلیف کیمپس ریلیف کے نام پر مذاق بن کر رہ گئے ۔ بیشتر کیمپس میں نہ ڈاکٹر موجود ہیں، نہ پیرا میڈیکل اسٹاف، نہ ادویات دستیاب ہیں اور نہ ہی او آر ایس جیسی بنیادی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ کیمپس کے نام پر صرف پینا فلیکس کے شیڈ اور پانی کا کولر رکھ کر انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لی۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے ہیٹ ویو کے پیش نظر عوام کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور ہیٹ سٹروک سے ہونے والے ممکنہ جانی نقصانات سے بچانے کے لیے ضلع بھر میں ریلیف کیمپس قائم کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ضلعی انتظامیہ نے ان کیمپس کو محض نمائشی بنا دیا ہے ۔میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کے دفاتر کے باہر قائم یہ کیمپس متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ وہاں نہ طبی عملہ موجود ہے اور نہ ہی ضروری طبی سامان دستیاب ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ روزانہ ہزاروں مزدور، رکشہ ڈرائیور، ریڑھی بان، ٹریفک اہلکار اور مسافر شدید دھوپ میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔

اگر کوئی شخص ہیٹ سٹروک کا شکار ہو جائے تو ایسے نام نہاد کیمپس اس کی جان بچانے کے بجائے بے بسی کی تصویر بنے رہیں گے ۔عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب کیمپس میں نہ ڈاکٹر ہیں، نہ ادویات اور نہ ہی او آر ایس، تو پھر ان پر سرکاری وسائل خرچ کرنے کا مقصد کیا ہے ؟، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایسے مراکز پر تربیت یافتہ عملہ، ابتدائی طبی امداد، او آر ایس، برف، ٹھنڈا پانی اور ضروری ادویات کی موجودگی ناگزیر ہے ، تاہم بیشتر کیمپس ان بنیادی تقاضوں سے بھی محروم ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے بجائے صرف کاغذی کارروائی مکمل کرنے اور تصویری تشہیر تک خود کو محدود کر رکھا ہے ۔ شہریوں نے کمشنر فیصل آباد مسرت جبیں اور ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں