اراضی ریکارڈ سنٹرز کی سروسزسست ، شہریوں کو مشکلات
تمام موضع جات اور دیہات کا ریکارڈ تاحال مکمل طور پر ڈیجیٹائز نہیں ہو سکا، لو گوں کے کام متاثر ہو رہے
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )پنجاب حکومت کی جانب سے پٹواری کلچر کے خاتمے اور اراضی ریکارڈ کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ اور آن لائن کرنے کے دعوؤں کے باوجود متعدد اراضی ریکارڈ سنٹرز، خصوصاً جڑانوالہ اراضی ریکارڈ سنٹر، شہریوں کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ شہریوں کے مطابق لنک ڈاؤن، سرور کی خرابی، ریکارڈ کی عدم اپ ڈیٹ اور فردِ ملکیت کے اجرا میں تاخیر کے باعث نہ صرف روزمرہ کے امور بلکہ کروڑوں روپے کے لین دین اور عدالتی کارروائیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے قیام کا مقصد روایتی پٹواری نظام کا خاتمہ، جعلسازی کی روک تھام اور شہریوں کو ایک ہی چھت تلے شفاف اور تیز رفتار خدمات فراہم کرنا تھا، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ تمام موضع جات اور دیہات کا ریکارڈ تاحال مکمل طور پر ڈیجیٹائز نہیں ہو سکا، جس کے باعث انہیں مختلف مشکلات کا سامنا ہے ۔شہریوں کے مطابق جڑانوالہ اراضی ریکارڈ سنٹر میں اکثر اوقات سسٹم بند، سرور ڈاؤن یا لنک فیل رہنے کی شکایات سامنے آتی ہیں، جس کے باعث سائلین کو شدید گرمی میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات صرف ایک فردِ ملکیت کے حصول کے لیے بھی تین سے چار روز تک مسلسل چکر لگانے پڑتے ہیں، جبکہ سروس کی سست رفتاری کے باعث روزانہ بڑی تعداد میں شہری لمبی قطاروں میں انتظار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بزرگ، خواتین اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
شہریوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر روایتی پٹواری نظام ختم کیا گیا ہے تو حکومت کی ذمہ داری تھی کہ اراضی ریکارڈ سنٹرز کو جدید سہولیات، مستحکم انٹرنیٹ، فعال سرورز اور مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ سے آراستہ کیا جاتا تاکہ عوام کو دفاتر کے بار بار چکر نہ لگانے پڑتے ۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، بورڈ آف ریونیو اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ جڑانوالہ سمیت تمام اراضی ریکارڈ سنٹرز کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ، سرور اور لنک کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیے جائیں، تمام موضع جات کا ریکارڈ جلد از جلد مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے اور شہریوں کو فردِ ملکیت سمیت دیگر خدمات بروقت فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔