سوئمنگ پولز پر حفاظتی انتظامات ناکافی، شہریوں کا مانیٹرنگ کا مطالبہ
3 روز محمد والا میں 14 سالہ علی حسن پول میں ڈوب گیا تھا ،مگر انسپکشن یا حفاظتی انتظامات کا مؤثر جائزہ نہیں لیا گیا بیشتر مقامات پر تربیت یافتہ لائف گارڈز، فرسٹ ایڈ کی سہولت، ہنگامی طبی امداد، کے انتظامات موجود نہیں ہوتے
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) ضلع بھر میں قائم نجی سوئمنگ پولز پر حفاظتی انتظامات اور ایس او پیز پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث شہریوں، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے فوری انسپکشن اور سخت مانیٹرنگ کا مطالبہ کیا ہے ۔تین روز قبل تھانہ کھڑیاں والا کے علاقے محمد والا میں 14 سالہ علی حسن سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوگیا تھا، تاہم اس واقعے کے باوجود ضلع بھر کے سوئمنگ پولز کی جامع انسپکشن یا حفاظتی انتظامات کا مؤثر جائزہ نہیں لیا گیا۔ذرائع کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ سوئمنگ پولز پر آنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے ، لیکن بیشتر مقامات پر تربیت یافتہ لائف گارڈز، فرسٹ ایڈ کی سہولت، ہنگامی طبی امداد، ریسکیو آلات، گہرے اور کم گہرے حصوں کی واضح نشاندہی، بچوں کے لیے محفوظ علیحدہ حصہ اور دیگر بنیادی حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سوئمنگ پول پر لائف گارڈ، فرسٹ ایڈ کٹ، سی سی ٹی وی نگرانی، پھسلن سے محفوظ فرش، حفاظتی ریلنگ، پانی کی باقاعدہ جانچ، گنجائش کے مطابق افراد کے داخلے اور بچوں کی نگرانی جیسے اقدامات بنیادی حفاظتی تقاضے ہیں، مگر متعدد نجی پولز میں ان اصولوں پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔شہریوں کا مؤقف ہے کہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری صرف لائسنس جاری کرنا نہیں بلکہ حفاظتی قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانا بھی ہے ۔ انہوں نے کمشنر فیصل آباد، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر کے سوئمنگ پولز کا فوری سروے کیا جائے ، حفاظتی ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے ، خلاف ورزی کرنے والے پولز کے خلاف کارروائی کی جائے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سخت مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔