کمالیہ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر آن لائن بین الاقوامی مکالمہ

 کمالیہ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر آن لائن بین الاقوامی مکالمہ

برطانیہ اور ملائیشیا سے بھی وائس چانسلرز اورماہرین کی مکالمے میں شرکت امتحانی نظام ، جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر مشتمل حکمتِ عملی ناگزیر :ڈاکٹر یاسر

کمالیہ(نمائندہ خصوصی )یونیورسٹی آف کمالیہ میں مصنوعی ذہانت پر بین الاقوامی مکالمہ، جامعات میں جامع اے آئی حکمتِ عملی اپنانے پر زور یونیورسٹی آف کمالیہ نے اصلاح جامعات کے اشتراک سے \"جامعات کی ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کیلئے تیاری\"کے موضوع پر بین الاقوامی آن لائن مکالمے کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان، برطانیہ اور ملائیشیا سے وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے شرکت کی۔مکالمے کے پہلے سیشن کی صدارت وائس چانسلر یونیورسٹی آف کمالیہ پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کیلئے تیاری کو محض ایک کورس، تربیتی ورکشاپ یا سافٹ ویئر کی خریداری تک محدود نہیں کیا جا سکتا ، امتحانی نظام اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر مشتمل جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے ۔مکالمے میں پروفیسر ڈاکٹر اشفاق چٹھہ، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار، پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور ، پروفیسر ڈاکٹر عمر چودھری ، ڈاکٹر جان آرتھر، پروفیسر ڈاکٹر عاشق انجم اور پروفیسر ڈاکٹر طارق زمان نے اظہارِ خیال کیا۔شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت اب تعلیمی نظام کا اہم حصہ بن چکی ہے تاہم اسے انسانی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور علمی فیصلوں کا متبادل بنانے کے بجائے معاون ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...