ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام غیر فعال، باربرز کی رجسٹریشن بھی بند
محکمہ صحت کی عدم توجہی ،شہریوں نے ہیپاٹائٹس کے بڑھتے خطرات پر لوگوں کو تشویش
فیصل آباد (خصوصی رپورٹر)حکومت پنجاب اور محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے تحت شروع کیا گیا ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام فیصل آباد میں غیر فعال ہو گیا ہے ، جبکہ حجاموں اور بیوٹی سیلونز کی رجسٹریشن کا عمل بھی گزشتہ ایک سال سے بند ہے ۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی عدم توجہی کے باعث شہریوں نے ہیپاٹائٹس کے بڑھتے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔آٹھ سال قبل حکومت پنجاب کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے بیوٹی سیلونز اور باربرز کی رجسٹریشن، ہیلتھ سرٹیفکیٹس کی جانچ اور حفظانِ صحت کے معیارات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی مہم شروع کی تھی۔ اس پروگرام کے تحت باربرز کو بلیڈ کٹرز، ویسٹ بیگز اور جراثیم کش کٹس فراہم کی گئیں، جبکہ عملے کے طبی معائنے بھی کرائے گئے تاکہ متعدی امراض کی منتقلی کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت فیصل آباد میں تقریباً 600 باربرز اور بیوٹی سیلونز رجسٹرڈ کیے گئے تھے ، تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ پروگرام انتظامی غفلت کا شکار ہو کر غیر فعال ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ نے اس منصوبے پر مؤثر عملدرآمد جاری نہ رکھا، جس کے باعث رجسٹریشن کا عمل بھی رک گیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ باربرز اور بیوٹی سیلونز میں حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کو دوبارہ فعال کریں، رجسٹریشن کا عمل بحال کریں اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال سے ملحقہ لیور سینٹر کی جانب سے ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ، جبکہ شہریوں نے عوامی فلاح کے اس منصوبے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments