ٹریفک چالان ٹارگٹ نہیں، شہریوں کی تربیت ضروری :مقررین
شہریوں اور اہلکاروں میں تلخ کلامی اور جھگڑے معمول بنتے جا رہے :سیمینار میں تقاریر
پینسرہ (نمائندہ دنیا ) ٹریفک وارڈنز کی جانب سے مبینہ طور پر بے جا چالانوں اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے نام پر شہریوں کو درپیش مشکلات کے خلاف سیمینار منعقد ہوا، جس میں یٰسین کسانہ، میاں عبدالرشید، عصمت اکرام، محمد علی سمیت طلبہ، سیاسی، سماجی و تاجر تنظیموں کے نمائندوں اور دیگر شہریوں نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ ٹریفک پولیس کا بنیادی مقصد ٹریفک کی روانی یقینی بنانا اور شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہ کرنا ہے ، محض چالانوں کے ذریعے ٹارگٹ پورا کرنا نہیں۔ شہر کے مختلف چوکوں اور شاہراہوں پر بڑی تعداد میں وارڈنز تعینات کرکے شہریوں کے چالان کیے جا رہے ہیں، جبکہ بعض اوقات ہیلمٹ کے علاوہ معمولی نوعیت کی خلاف ورزیوں کو بھی چالان کا جواز بنایا جاتا ہے ۔ اس صورتحال کے باعث شہریوں اور ٹریفک اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، جس سے عوام میں ٹریفک پولیس کے حوالے سے منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے ۔شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت اور ٹریفک کے اعلیٰ افسران کو چالانوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ٹریفک مینجمنٹ کی جامع پالیسی تشکیل دینی چاہیے ۔ بڑے پیمانے پر کارروائی سے قبل سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آگاہی مہم چلائی جائے اور شہریوں، خصوصاً طلبہ کو ٹریفک قوانین، ہیلمٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور روڈ سیفٹی کے تقاضوں سے آگاہ کیا جائے ۔سیمینار میں شہر کے ناقص ٹریفک انفراسٹرکچر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ متعدد سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کئی مقامات پر ڈیوائیڈرز موجود نہیں، ٹریفک سگنلز خراب ہیں جبکہ سروس روڈز پر تجاوزات کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر ہو رہا ہے ۔ ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر صرف شہریوں کے چالان کرنا مؤثر ٹریفک پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments