کسان، مزدور اور حافظ آباد کے عوم میرا اثاثہ :ضمیر الحسن

کسان، مزدور اور حافظ آباد کے عوم میرا اثاثہ :ضمیر الحسن

خیراتی سیٹ پر اسمبلی پہنچنے والی ایم این اے کو کسانوں کی بات کرنا نا گوار گزرا

حافظ آباد (نامہ نگار ،نمائندہ دنیا )تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی ضمیر الحسن بھٹی نے کہا ہے کہ خیراتی سیٹ پر قومی اسمبلی پہنچنے والی مقامی لیگی ایم این اے کو میراپنجاب اسمبلی اجلاس میں کسان بھائیوں کی بات کرنا ناگوار گزرا،کسان مزدور اور حافظ آباد کے غیور عوام میرا قیمتی اثاثہ ہیں،میں انکے مفادات کیلئے ہر فورم پر بات کرونگا، حکومت کی ناقص حکمت عملی اور غلط پالیسیوں کی بدولت اس سال بھی حافظ آباد میں صرف 70 ہزار بوری گندم خریداری ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے میں حافظ آباد کی ریجیکٹیڈ ایم این اے اور حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ضلع میں 3 لاکھ 93 ہزار ایکڑ پر کاشت کی جانے والی گندم کسان اور زمیندار کہاں لے کر جائیں اور افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک مقامی سطح پر سرکاری خریداری کا آغاز نہیں کیا جا سکا۔

ضمیر الحسن بھٹی نے مزید کہا کہ گزشتہ سال بھی مسلم لیگ ن کی ایم این اے اور اسکے حواریوں نے لاکھوں بوری باردانہ حاصل کیا جبکہ ضلع بھر کے کسان اور زمیندار باردانہ کے حصول کیلئے خوار ہوتے رہے ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ایم این اے نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں اپنے چند ترقیاتی منصوبوں کا تو ذکر کیا لیکن حافظ آباد کی عوام جانتی ہے کہ ہمارے دور اقتدار میں شروع ہونے والے نئے ڈی ایچ کیو ہسپتال اور یونیورسٹی آف حافظ آباد کے منصوبوں کے فنڈز کس نے رکوائے ہیں ۔جس کی وجہ سے ضلع کے عوام آج علاج اور ادویات نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم این اے اور اسکے حواریوں کی کرپشن اور ٹھیکوں سے کمیشن کی داستانیں زبان زدعام ہیں جو پھر بھی بڑی ڈھٹائی سے اپنی نام نہاد پاکدامنی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں