پاکستان بہترین سفارتکار، معاہدے کی امید برقرار، مذاکرات کا دوسرا دور کل ہوگا: امریکی میڈیا

واشنگٹن، اسلام آباد: (دنیا نیوز، ویب ڈیسک) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل اسلام آباد میں ہوگا۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آج پاکستان روانگی متوقع ہے جبکہ ایران کے مذاکراتی وفد کا بھی آج اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے آج صبح پاکستان کے لیے روانہ ہونے کی توقع ہے جہاں پر ایک ایسا معاہدہ ہونے کا امکان ہے جس سے جنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی معاہدہ ہونے تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ کسی دباؤ میں نہیں، ڈیل تب ہوگی جب بہترین شرائط حاصل ہوں گی، ایران کے ساتھ ہماری ڈیل اوباما کے معاہدے سے بہتر ہوگی۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہماری ڈیل ایسی ہوگی جس پر دنیا فخر کرے گی، ایران کے ساتھ نیا معاہدہ عالمی امن،سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دے گا، ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، اگر نئی قیادت سمجھدار ہوئی تو ایران کا مستقبل خوشحال ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں نتائج حیرت انگیز ہوں گے، اوباما اور جوبائیڈن کا معاہدہ امریکی سلامتی کیلئے بدترین تھا، ڈیل ختم نہ کرتا تو مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہو سکتے تھے، سیز فائر میں مزید توسیع کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، ڈیل نہ ہونے کی صورت میں جنگ یقینی ہے، جلدی میں کوئی برا معاہدہ نہیں کروں گا۔

وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ امریکا کو ایران کے ساتھ ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں دھکیلیں گے، امریکی صدر کے ماتحت ڈیل ہوئی تو وہ امن، سلامتی کی گارنٹی دے گی، اگر کوئی ڈیل ہوئی تو صرف اسرائیل ، مشرق وسطی نہیں بلکہ یورپ امریکا سمیت ہر جگہ امن ہوگا۔

ایرانی پارلیمانی سپیکر و سربراہ مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کسی صورت قبول نہیں۔

خیال رہے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے اپنا کردار ادا کیا مگر امریکا پر اعتماد نہیں، مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا تاحال کوئی ارادہ نہیں، وفد پاکستان نہیں جائے گا۔

دوسری طرف نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں امن کے لیے کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ شتعال انگیز اقدامات اور جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں سفارتی عمل کے تسلسل میں حائل رکاوٹیں ہیں، ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف دھمکیاں اور مداخلت اور ایران کے بارے میں ’متضاد بیانات اور دھمکی آمیز زبان بھی سفارتی عمل میں حائل رکاوٹیں ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں