بڑھتی لاگت اور کم آمدن نے کسانوں کی کمر توڑ دی
کاشتکاروں کا حکومتی پر تحفظات کا اظہار ،فوری عملی اقدامات کا مطالبہ
علی پورچٹھہ (تحصیل رپورٹر )زراعت شدید بحران کا شکار بڑھتی لاگت اور کم آمدن نے کسانوں کی کمر توڑ دی،میڈیا سروے کے دوران کاشتکاروں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کر دیا ۔ سروے میں مختلف دیہات اور زرعی علاقوں کے کسانوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چند سال قبل تک زراعت منافع بخش پیشہ سمجھا جاتا تھا مگر آج کسان اپنی ہی زمین پر محنت کرنے کے باوجود معاشی مشکلات کا شکار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کھادوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے معیاری بیج عام کسان کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں جبکہ زرعی ادویات بھی کئی گنا مہنگی ہو چکی ہیں۔ کاشتکاروں نے بتایا کہ ٹیوب ویل چلانے کے لیے بجلی کے بھاری بل اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں نے زرعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ، کسان فصل کی تیاری کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے جبکہ دوسری جانب فصل تیار ہونے پر محنت کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا جس سے کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ گندم، چاول، مکئی، سبزیوں اور دیگر فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، منڈیوں میں مڈل مین اور آڑھتی زیادہ فائدہ حاصل کرتے ہیں جبکہ کسان معاشی نقصان برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے معاشی قتل کو روکا جائے ، زراعت کو ریلیف فراہم کیا جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے کسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے ۔