’’بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ، اشرافیہ کے مفادات کا محافظ‘‘

’’بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ، اشرافیہ کے مفادات کا محافظ‘‘

عام شہری کی زندگی میں درپیش مسائل کا حقیقی عکس کہیں دکھائی نہیں دیتا:شہری

علی پورچٹھہ (تحصیل رپورٹر )شہریوں نے وفاقی بجٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندہ ، اشرافیہ کے مفادات کا محافظ قرار دیدیا ۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ 2026-27 بھی گزشتہ کئی برسوں کی طرح خسارے پر مبنی اور اعداد و شمار کا ایسا مجموعہ ہے جس کا زمینی حقائق سے بہت کم تعلق دکھائی دیتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ دستاویزات میں ترقی، معاشی استحکام اور خوشحالی کے دعوے تو موجود ہیں مگر عام شہری کی زندگی میں درپیش مسائل کا حقیقی عکس کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ شہریوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے ۔ ایسے حالات میں عوام کو امید تھی کہ بجٹ میں انہیں خاطر خواہ ریلیف دیا جائے گا۔

مگر بجٹ کا جائزہ لینے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ عام آدمی کے بجائے مخصوص طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے ۔ میڈیا سروے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ غربت اور بے روزگاری کے جو سرکاری اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، زمینی حقیقت ان سے کہیں زیادہ سنگین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ بنانے والے شاید کبھی ان خاندانوں کی زندگی کا قریب سے مشاہدہ نہیں کرتے جو خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ شہریوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ بجٹ اور معاشی پالیسیوں کی وضاحت کے لیے ایسے پیچیدہ معاشی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں