یلولائن بی آرٹی منصوبے کے سابق ڈائریکٹر کی گمشدگی، درخواست دائر

یلولائن بی آرٹی منصوبے کے سابق ڈائریکٹر کی گمشدگی، درخواست دائر

آئینی درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ، دفاع، آئی جی ودیگر کوفریق بنایا گیاایڈوانس ادائیگیوں پر اینٹی کرپشن اہلکار ضمیر عباسی کو زبردستی ساتھ لے گئے ، موقف

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی کی مبینہ گمشدگی اور غیر قانونی حراست کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی۔ درخواست کاشف خان ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی ہے جس میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ، وزارت دفاع، چیئرمین اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ، آئی جی سندھ اور کمیشن برائے لاپتہ افراد کو فریق بنایا گیا  ۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ضمیر احمد عباسی یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔

ان پر کنٹریکٹرز کو ایڈوانس ادائیگیوں کی مد میں کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم یہ ادائیگیاں معمول کے دفتری امور کا حصہ تھیں اور ان میں کوئی بے ضابطگی نہیں کی گئی۔ درخواست کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے اہلکار ضمیر عباسی کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے اور انہیں اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے ۔ چوبیس گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود انہیں کسی مجاز عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔درخواست میں کہا گیا کہ اینٹی کرپشن کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں جبکہ متعلقہ حکام ضمیر عباسی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کر رہے ۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ضمیر عباسی کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے ، متعلقہ اداروں کو ان کی گمشدگی اور حراست سے متعلق تفصیلات ظاہر کرنے کا پابند بنایا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں