ہیڈ ساگر چھناواں روڈ توڑ کر پانی نہر میں چھوڑ دیا گیا
سڑک پر تعمیر پلی سے نکاسی نہ ہونے کے با عث کئی دیہات ، اراضی زیر آب
علی پورچٹھہ(تحصیل رپورٹر )چار سال سے زیر تعمیر ہیڈ ساگر تا ہیڈ چھناواں سڑک کو بچہ چٹھہ کے قریب کٹ لگا کر پانی نہر میں چھوڑ دیا گیا ، متعدد دیہات اور سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب آگئیں ۔ حالیہ بارشوں کے بعد برساتی ، سیم نالوں اور قدرتی گزرگاہوں کی بروقت صفائی نہ ہونے کے باعث وسیع علاقے میں پانی جمع ہو گیا۔ مقامی افراد کے مطابق سڑک پر جو پلی تعمیر کی گئی ہے ، وہ سطح زمین سے بلند ہونے کی وجہ سے نکاسی آب میں ناکام ثابت ہوئی جس کے باعث پانی دیہات اور زرعی اراضی میں پھیل گیا اور متعدد بستیاں و سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب آ گئیں۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر بچہ چٹھہ کے قریب سڑک میں کٹ لگا کر جمع شدہ پانی کو نہر لوئر چناب کی جانب موڑ دیا گیا۔ اس موقع پر مقامی رکن پنجاب اسمبلی عدنان افضل چٹھہ بھی موجود تھے جبکہ مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں نے نعرے لگاتے ہوئے اقدام کو دیہات اور فصلوں کو بچانے کی کوشش قرار دیا۔ دوسری جانب شہریوں اور کسانوں نے متعلقہ محکموں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اس روٹ پر برساتی پانی کی نکاسی کیلئے مناسب تعداد میں پل اور گزرگاہیں بنائی جائیں تاہم ان تجاویز کو نظر انداز کر دیا گیا۔ متاثرہ افراد نے وزیراعلیٰ ، سیکرٹری مواصلات، محکمہ ہائی ویز، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کا تکنیکی آڈٹ کرایا جائے ، نکاسی آب کے نظام کو ازسرنو ڈیزائن کیا جائے تاکہ مستقبل میں دیہات، فصلوں کو نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments