ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی کمی،شہری مہنگے علاج پر مجبور

 ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی کمی،شہری مہنگے علاج پر مجبور

علی پور چٹھہ میں اتائی ڈاکٹروں کی بھرمار ، مریضوں کی صحت کیساتھ کھلواڑ

علی پورچٹھہ (تحصیل رپورٹر)اتائی ڈاکٹروں کی بھرمار ، مہنگا علاج عوام کیلئے عذاب بن گیا،شہری طبی سہولیات سے محرومی پر سراپا احتجاج بن گئے ۔ علی پورچٹھہ اور گردونواح میں صحت کے شعبے کی ابتر صورتحال نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ۔ سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی کمی، مہنگا پرائیویٹ علاج اور اتائی ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے عوام کو ایک نئے بحران میں مبتلا کر دیا ۔ تحصیل علی پورچٹھہ میں متعدد سرکاری طبی مراکز اور ہسپتال موجود ہونے کے باوجود شہریوں کو معیاری طبی سہولیات میسر نہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں ادویات، جدید طبی آلات، لیبارٹری سہولیات اور ماہر ڈاکٹروں کی کمی کے باعث مریضوں کو مناسب علاج نہیں مل پاتا، جس کے نتیجے میں انہیں مہنگے نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔شہریوں کے مطابق پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس میں علاج کے اخراجات عام آدمی کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔

معمولی بیماری کی تشخیص کیلئے بھی مریضوں کو متعدد لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے اور دیگر مہنگے طبی معائنے تجویز کئے جاتے ہیں جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے ،خصوصاً زچگی اور خواتین کے طبی مسائل کے حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مطلوبہ سہولیات نہ ہونے کے باعث خواتین کو نجی ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے جہاں آپریشن اور علاج کے اخراجات ہزاروں سے لاکھوں روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔ دوسری جانب شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں اتائی ڈاکٹروں اور غیر مستند معالجین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صحت بنیادی انسانی ضرورت ہے اور اگر اس شعبے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو بیماریوں، اموات اور طبی مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑیں گے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں