معیشت پر قرضوں کا بوجھ ‘ترقی کیلئے فنڈز محدود :نعیم جاوید

معیشت پر قرضوں کا بوجھ ‘ترقی کیلئے فنڈز محدود :نعیم جاوید

آئندہ مال سال 8ہزار 54ارب روپے قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہونگے

سیالکوٹ (نمائندہ دنیا )سابق ضلعی ناظم سیالکوٹ میاں نعیم جاوید نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت پر قرضوں کا بوجھ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قومی ترقی کیلئے مختص وسائل انتہائی محدود ہو گئے ہیں وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17ہزار 771ارب روپے رکھا گیا ہے تاہم اس میں سے 8ہزار 54ارب روپے صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جائینگے جو بجٹ کا سب سے بڑا حصہ ہے ،میاں نعیم جاوید نے کہا کہ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ قرضوں کی اصل رقم برقرار رہتی ہے جبکہ قومی خزانے سے صرف سود کی مد میں ہزاروں ارب روپے ادا کئے جا رہے ہیں بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاعی اخراجات کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ سول انتظامیہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر انتظامی امور پر بھی خطیر رقم خرچ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ان بھاری اخراجات کے بعد صحت تعلیم سماجی بہبود پینے کے صاف پانی روزگار اور عوامی فلاح و ترقی کے منصوبوں کے لیے وسائل نہایت محدود رہ جاتے ہیں جس کا براہ راست اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑتا ہے کہ جب تک حکومت قرضوں پر انحصار کم کرنے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کی پالیسی اختیار نہیں کرتی اس وقت تک عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بجٹ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ملک کو معاشی استحکام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلائی جا سکے اور صحت و تعلیم جیسے بنیادی شعبوں کو مطلوبہ وسائل فراہم کئے جا سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں