آوارہ کتوں کے خلاف مہم، کاغذی کارروائی تک محدود رہنے کا الزام

آوارہ کتوں کے خلاف مہم، کاغذی کارروائی تک محدود رہنے کا الزام

شہریوں کا محکمہ لوکل گورنمنٹ کے بعض افسروں کی مبینہ چشم پوشی پر تشویش کا اظہار

ٹوبہ ٹیک سنگھ (ڈسٹرکٹ رپورٹر )حکومت پنجاب کی جانب سے آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی مہم ضلع بھر میں مبینہ طور پر کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئی، شہریوں نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کے بعض افسران کی مبینہ چشم پوشی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ شہریوں کے مطابق مہم مؤثر ثابت نہ ہونے کے باعث شہر اور دیہی علاقوں میں آوارہ کتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ مبینہ طور پر فرضی اعدادوشمار بھی ریکارڈ کا حصہ بنائے جا رہے ہیں۔ گلی محلوں، بازاروں، اسکولوں اور ہسپتالوں کے اطراف آوارہ کتوں کے غول آزادانہ گھومتے دکھائی دیتے ہیں جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ متعدد علاقوں میں صبح سویرے اسکول جانے والے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جبکہ رات کے اوقات میں موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں پر کتوں کے حملوں کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ہر ماہ آوارہ کتوں کے تدارک کے لیے ادویات اور دیگر سامان فراہم کیا جاتا ہے ، تاہم عملی طور پر مہم کے نتائج تسلی بخش نہیں۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق کتے کے کاٹنے کے واقعات میں متاثرہ افراد طبی امداد کے لیے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جن میں بچوں کی تعداد بھی بتائی جاتی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے حملوں کے باعث حادثات بھی پیش آ رہے ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...