3ہزار من والی گندم کا آٹا 6ہزار میں بک رہا :کسان بورڈ
گندم اور شوگرمافیا کسانوں ، صارفین اور خزانے کولوٹ رہا :امان اللہ چٹھہ
حافظ آباد (نمائندہ دُنیا ، نامہ نگار )کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی نائب صدر امان اﷲ چٹھہ نے کہا ہے کہ گندم اور شوگر مافیا نے بیک وقت کسانوں، صارفین اور سرکاری خزانے کو بے پناہ مالی نقصان سے دوچار کر رکھا ہے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس مافیا کی لوٹ مار کے نتیجے میں زرعی آبادی کی اکثریت کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیلا جا رہا ہے اور ملک کو سنگین غذائی بحران کی دلدل میں دھنسایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ رواں سیزن میں کسانوں سے تین ہزار روپے من میں خریدی ہوئی گندم کو اب مارکیٹ میں 3 ہزار روپے من سے زائد اور آٹا 6 ہزار روپے من تک فروخت کر کے سستی روٹی کے حکومتی دعوؤں کا منہ چڑھایا جا رہا ہے اور حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔امان اﷲ چٹھہ نے کہا کہ دوسری طرف شوگر ملز مافیا کاشتکاروں کے کروڑوں روپے کے واجبات دبا کر بیٹھا ہوا ہے ، جس سے گنے کے کاشتکار شدید معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اس استحصالی نظام کے خلاف کسانوں نے 5 نومبر کو مال روڈ لاہور پر زبردست احتجاجی ریلی اور دھرنے کا اعلان کر دیا ہے جس میں پنجاب بھر سے ہزاروں کسان شریک ہوں گے ۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ماہ اکتوبر کے اندر ہی گندم کی امدادی قیمت 5000 روپے فی من اور گنے کی قیمت 700 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان کیا جائے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے کسانوں کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو 5 نومبر کا احتجاج بڑی تحریک میں تبدیل ہو جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments