تعمیراتی شعبہ کو روایتی کے بجائے جدید و ماحوال دوست بنانا ہوگا
تعمیر کے آغاز میں نسبتاً مہنگی ہوتی ہیں لیکن مستقبل میں بچت ہوتی ہے، ماہرین
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) بدترین موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچائوکیلئے تعمیراتی شعبے کو روایتی کے بجائے جدید و ماحول دوست بنایا جائے۔ یہ مطالبہ گزشتہ روز ایمپیک سٹرٹییجیز کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کیا۔ چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ آفتاب گیلانی نے کہا کہ اے آئی بیسڈ بلڈنگ مینجمنٹ سسٹمز عمارتوں میں توانائی کے استعمال کو خودکار طریقے سے کنٹرول کرتے ہیں جس سے بجلی کے ضیاع اور کاربن اخراج میں واضح کمی آتی ہے۔ اسی طرح سمارٹ ڈیزائن سافٹ ویئرز موسمی حالات، درجہ حرارت اور ہوا کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے عمارتوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
جس سے عمارتیں زیادہ پائیدار اور ماحول دوست بن جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ارشد نے کہا کہ شہری تعمیرات میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز کو لازمی جزو قرار دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر مؤثر انداز میں قابو پایا جاسکے۔ ماہرین کے مطابق توانائی مؤثر اور ماحول دوست عمارتیں اگرچہ تعمیر کے آغاز میں نسبتاً مہنگی ہوتی ہیں، تاہم یہ طویل مدت میں بجلی، پانی اور دیکھ بھال کے اخراجات میں نمایاں کمی لا کر مجموعی طور پر زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔