ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کا جواب ریکارڈکا حصہ

ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کا جواب ریکارڈکا حصہ

عدالت کا دیگر فریقین کو آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کا حکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈ وائفری کونسل میں سندھ سے رکن کی مبینہ خلافِ ضابطہ نامزدگی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے نیشنل ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے اس کی نقول درخواست گزار کے وکیل کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سمیرا پنجوانی نے بائیو ایتھکس میں ماسٹرز کیا ہوا ہے ، جس پر درخواست گزار کے وکیل نواز ڈاہری ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈ وائفری کونسل کے رکن کے لیے نرسنگ میں ماسٹرز ڈگری لازمی ہے ، جبکہ نامزد رکن کے پاس مطلوبہ تعلیمی قابلیت موجود نہیں۔ وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے بغیر کسی اشتہار اور مقررہ طریقہ کار کے سمیرا پنجوانی کو رکن نامزد کیا، حالانکہ قواعد کے مطابق پہلے اشتہار جاری ہوتا ہے ، پھر صوبے بھر سے امیدواروں کے درمیان انتخابی عمل کے بعد ایک شخص منتخب کیا جاتا ہے ، جسے بعد ازاں حکومت سندھ کی جانب سے نامزد کر کے وزیر اعظم سے حتمی منظوری لی جاتی ہے ۔ درخواست گزار کے مطابق اس معاملے میں تمام قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے خفیہ طور پر نامزدگی کی گئی، جو قانون کے منافی ہے ۔ عدالت نے دیگر فریقین کو آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں