گلشن روفی اسکیم 33 کے بزرگ متاثرین کی عدالت میں دہائیاں
پلاٹس بک کروانے کے بعد وہ برباد ہوچکے ہیں،کبھی عدالتوں تو کبھی نیب کے چکر لگانے پر مجبور ہیں،متاثرین پلاٹس کی عدم فراہمی سے متعلق کیس میں عدالت احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہم، ملزمان کو آخری مہلت
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ میں گلشن روفی اسکیم 33 کے متاثرین کو پلاٹس کی عدم فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو آخری مہلت دے دی۔ سماعت کے موقع پر بزرگ متاثرین ایک بار پھر انصاف کے لیے عدالت پہنچ گئے اور کمرہ عدالت میں دہائیاں دیتے رہے کہ پلاٹس بک کروانے کے بعد وہ برباد ہوچکے ہیں اور کبھی عدالتوں تو کبھی نیب کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ متاثرین نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2020 میں انہیں لیز پلاٹس فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اب تک ان احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور وہ دربدر دھکے کھا رہے ہیں۔ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کہاں ہیں؟ ملزمان کے وکیل نے بتایا کہ دو ملزمان عدالت میں پیش ہوئے ہیں جبکہ محمد قاسم بیماری اور ڈائیلاسز کے باعث پیش نہیں ہوسکے ۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈائیلاسز جیل میں بھی ہوسکتا ہے ۔
عدالت نے قرار دیا کہ متاثرین کو لیز پلاٹس فراہم کیے جائیں اور اس حوالے سے بلڈرز اور نیب سے مکمل فہرست طلب کرلی۔ عدالت نے حکم دیا کہ احکامات پر عملدرآمد کرکے ملزمان کو 18 مئی کو پیش کیا جائے جبکہ نیب کے تفتیشی افسر کو بھی آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ کے ساتھ طلب کرلیا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر سید منظور علی نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 635 متاثرین اس کیس میں شامل ہیں۔ ل ملزمان یقین دہانیوں کے باوجود متاثرین کو پلاٹس فراہم نہیں کررہے اور نیب کی تحقیقات میں بھی تعاون نہیں کررہے ۔ درخواست گزار کے وکیل ملک الطاف جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود متاثرین کو پلاٹس فراہم نہیں کیے گئے اور ڈیویلیپمنٹ چارجز کی مد میں کروڑوں روپے کا فراڈ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ الاٹیز نے گلشن روفی اسکیم 33 کے سیکٹر 21 بی، 19 بی، 6 سی اور 6 بی میں پلاٹس بک کروائے تھے ، مگر نہ ترقیاتی کام کیا گیا اور نہ ہی واجبات کی مد میں شفافیت رکھی گئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سندھ ہائی کورٹ کے 2020 کے فیصلے پر عملدرآمد کرایا جائے اور متاثرین کو فوری پلاٹس فراہم کیے جائیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آخری مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ متاثرین کو لیز پلاٹس فراہم کیے جائیں اور آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ کے ساتھ مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔