کرایہ داری کیس میں یکطرفہ بے دخلی کا حکم کالعدم

 کرایہ داری کیس میں یکطرفہ بے دخلی کا حکم کالعدم

نوٹس کی درست ترسیل کے بغیر کارروائی انصاف کے تقاضوں کے منافی ،عدالتدرخواست گزار 2017 سے کرایہ ادا نہیں کر رہا، درخواست گزار کا موقف

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے کرایہ داری کے مقدمے میں یکطرفہ بے دخلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نوٹس کی درست ترسیل کے بغیر کارروائی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے ۔ عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی ایسٹ اور رینٹ کنٹرولر کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھیج دیا۔ سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزار عبد الواحد نے فرسٹ رینٹ اپیل مسترد ہونے کے خلاف درخواست دائر کی۔مقدمے کے مطابق مدعا علیہ نے گلشن اقبال میں واقع دکان کے حوالے سے کرایہ داری کیس دائر کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار 2017 سے کرایہ ادا نہیں کر رہا، جس پر رینٹ کنٹرولر نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے 2019 میں بے دخلی کا حکم جاری کیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے کیس کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اور اسے اس وقت علم ہوا جب عملدرآمد کی کارروائی کا نوٹس ملا، جس کے بعد اس نے یکطرفہ حکم واپس لینے کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ نوٹس کی ترسیل کے عمل میں سنگین خامیاں موجود ہیں، بیلف کی رپورٹ غیر واضح ہے اور نہ ہی رجسٹرڈ ڈاک یا کورئیر کے ذریعے نوٹس کی فراہمی کا کوئی ثبوت پیش کیا گیا۔ متبادل طریقے سے نوٹس چسپاں کرنے کا عمل بھی مشکوک ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں