بڑھتی مہنگائی،سیلانی اجتماعی قربانی میں 15فیصد اضافہ
اجتماعی قربان گاہوں سے گوشت کی ترسیل اور تقسیم کا عمل تین روز جاری رہامنوڑا کی ساحلی پٹی پر بھی گوشت تقسیم، حصہ لینے والوں کا شکریہ ، مولانا بشیر فاروقی
کراچی (سٹی ڈیسک)سیلانی کے بانی اور چیئرمین مولانا بشیر احمد فاروقی نے عیدالاضحی کے تینوں دن اجتماعی قربانی کے آپریشن کی نگرانی کی۔تیسرے روز جمعے کو گوشت کی تقسیم کے اختتام پر وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے قربانی میں حصہ لینے والے افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ملک اور بیرون ملک سے اس سال اجتماعی قربانی میں کم و بیش 15 فیصد اضافہ ہوا۔ ترکیہ سے ایک ہزار سے زائد حصے ڈالے گئے ۔ اس سال ماہی گیروں کی اپیل پر منوڑا کی ساحلی پٹی پر بھی کئی من گوشت روانہ کیا گیا۔ گوشت کی ترسیل کے لیے دس چلر کنٹینرز والے ٹرکوں کو استعمال کیا گیا۔چار ہزار سے زائد رضاکاروں نے شہروں، دیہی علاقوں اور قصبوں میں 225 سے زائد مقامات پر قربانی کے انتظامات سنبھالے ۔مولانا بشیر فاروقی نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں ایک عام آدمی کے لیے انفرادی قربانی کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
جس کے باعث اجتماعی قربانی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے تحت اس سال مجموعی طور پر کم و بیش 50 ہزار حصوں کا گوشت تقسیم کیا گیا ۔ تقریبا \\\" 45 فیصد گوشت حصہ داروں نے وصول کیا جبکہ باقی 55 فیصد گوشت پاکستان بھر کے لاکھوں غریب، نادار، سفید پوش اور مستحق خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم مشن صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات، ترکیہ، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، قطر، عمان، سعودی عرب، آسٹریلیا اور دنیا بھر سے لوگ سیلانی کی اجتماعی قربانی میں بھرپور اعتماد کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔