صرافہ جیولرزکا ایف بی آر سے مذاکرات معطل، احتجاج کی دھمکی
ف بی آر غیر ضروری دباؤ اور ہراسانی میں ملوث،ہڑتال کا آپشن زیر غور ہے پی او ایس قانون اور سیکشن 175 سی پر تحفظات ہیں،چیئرمین قاسم شکارپوری
کراچی (بزنس رپورٹر)آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے ایف بی آرکے ساتھ جاری تمام مذاکرات معطل کرنے اور اسلام آباد میں ہونے والے ہر قسم کے مذاکرات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاسم شکارپوری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایف بی آر کے اقدامات کو تاجروں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر صرافہ برادری کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کا آپشن زیر غور ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر اپنے ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے صرافہ تاجروں پر غیر ضروری دباؤ ڈال رہا ہے ،ایف بی آر کے مبینہ ناروا اقدامات کے خلاف کراچی سمیت سندھ بھر کی صرافہ مارکیٹیں منگل کو بطور احتجاج بند رکھی گئی ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف بی آر کے بعض افسران تاجروں کو ہراساں کرنے کے ساتھ رشوت طلبی میں بھی ملوث ہیں۔ پشاور میں صرافہ برادری کے دو ارکان سے مبینہ طور پر 25 کروڑ روپے رشوت کا مطالبہ کیا گیا جس نے تاجروں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے ،صرافہ برادری پی او ایس قانون کو موجودہ شکل میں قبول نہیں کرتی جبکہ سیکشن 175 سی کے ذریعے تاجروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ہمارے تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جا سکتا ہے ۔