میرپور خاص:22یوسیز کچرے ، سیوریج کے پانی میں ڈوب گئیں
منتخب بلدیاتی نمائندوں کی عدم دلچسپی، عوام بلدیاتی بنیادی سہولیات سے محرومفنڈز کے باوجود شہر میں چار سال کے دوران کوئی بڑا منصوبہ بھی سامنے نہیں آیا
میرپور خاص (رپورٹ عزیز خان)سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق سندھ حکومت مقامی حکومتوں کو او زیڈ ٹی کی مد میں سالانہ تقریباً 168 ارب روپے جاری کرتی ہے ۔ جبکہ شہر کے دو ٹاؤنز اور 22 یونین کونسلوں کو ہر ماہ او زیڈ ٹی اور دیگر بلدیاتی فنڈز کی مد میں کروڑوں روپے موصول ہوتے ہیں اگر 22 یونین کونسلوں کو اوسطاً 10 لاکھ روپے ماہانہ بھی مل رہے ہوں تو انہیں سالانہ تقریباً 26 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد فنڈز حاصل ہوتے ہیں جبکہ شہر کے دونوں ٹاؤنز کو اوسطاً 2 سے 2.5کروڑ روپے ماہانہ کے حساب سے سالانہ تقریباً 48 سے 60کروڑ روپے تک او زیڈ ٹی فنڈز موصول ہوتے ہیں، لیکن شہر کی مجموعی صورتحال دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ فنڈز خرچ کہاں ہو رہے ہیں؟ بھان سنگھ آباد، سیٹلائٹ ٹاؤن، پاک کالونی، والکرٹ، بلوچ پاڑہ، اے جے کالج روڈ، آدم ٹاؤن روڈ، عمرکوٹ روڈ، نواب کالونی، ہیرآباد، حمید پورہ کالونی، جمنداس کالونی سمیت متعدد علاقوں میں سیوریج کا گندا پانی سڑکوں پر جمع رہتا ہے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر موجود ہیں ٹوٹی سڑکیں شہریوں کیلئے وبال ہیں صفائی کا نظام مفلوج ہے شہر میں ایک بھی مکمل خوبصورت پارک نہیں جہاں فیملی بچوں کے جاسکے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں کئی کئی ماہ تک نالیاں صاف نہیں کی جاتیں بارشوں کے بعد گندا پانی گلیوں اور سڑکوں پر کھڑا رہتا ہے جبکہ صفائی کے دعوے صرف کاغذوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔