مصنوعی پانی بحران، ایف اوسی کاآرمی چیف کوخط لکھنے کافیصلہ
سندھ کے آبپاشی نظام میں کرپشن، بحالی کے نام پراربوں ڈکارے جاتےکروڑوں روپے دیکر افسر لگنے والا منصفانہ پانی کیسے دے سکتا، جاوید جاونیجو
میرپور خاص (بیورو رپورٹ)آبادگاروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی پانچ تنظیموں کے اتحاد نے سندھ میں پانی کی شدید مصنوعی قلت، زراعت کی تباہی اور فصلوں کی کم قیمتوں کے حوالے سے پہلی بار عسکری قیادت کے سربراہ سے سندھ کی زراعت کو بچانے کے لیے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے زرعی مسائل اور ان کے حل کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، ایف او سی سندھ کے چیئرمین جاوید جونیجو نے کہا کہ سندھ کا آبپاشی نظام کرپشن کی وجہ سے تباہ ہو چکا، بحالی اور صفائی کے نام پر اربوں روپے آتے ہیں انہیں کاغذوں میں جعلی بل بنا کر ہڑپ کیا جاتا ہے ، ایک افسر کروڑوں روپے دے کر خود کو تعینات کرواتا ہے ، وہ منصفانہ پانی کی تقسیم کیسے کرے گا؟ اربوں روپے کے منصوبے آئے کوئی تحقیقات نہیں ہوئی، فصلوں کے صحیح دام نہیں مل رہے ، کپاس کا ریٹ 11 ہزار سے کم ہو کر 8 ہزار تک آ گیا ہے ، کوئی زرعی پالیسی نہیں ہے زراعت اور آبپاشی کا محکمہ دونوں ناکام ہو چکے ہیں، ایسے لوگوں کو نوازا گیا ہے جنہیں الف ب کا بھی پتہ نہیں کہ کام کیسے کیا جاتا ہے ، اس کا ایک ہی حل ہے منصفانہ تحقیقات کرائی جائیں، ہماری ایک ہی امید عسکری قیادت ہے جو مکمل تحقیقات کرے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اتنے منصوبوں سے آبادگاروں کو کیا فائدہ ہوا ہے۔