لڑکی کی بازیابی سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری

لڑکی کی بازیابی سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری

پولیس کو مقدمے کی شفاف تفتیش جاری رکھنے ،ملزمان کی گرفتاری کاحکمتفتیشی افسر کیس کی پیشرفت رپورٹ متعلقہ عدالت میں جمع کرائے ،ہائیکورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے منگھوپیر سے لاپتہ ہونے والی 15 سالہ لڑکی صفیہ کی بازیابی سے متعلق درخواست کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے پولیس کو مقدمے کی شفاف تفتیش جاری رکھنے ، نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے اور جرم کا ارتکاب ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ اگرچہ درخواست کا بنیادی مقصد لاپتہ بچی کی بازیابی تھا اور وہ مقصد پورا ہو چکا ہے ، تاہم اس سے تفتیشی ادارے اپنی قانونی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ تفتیشی افسر مقدمے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات جاری رکھے اور کیس کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ متعلقہ عدالت میں جمع کرائے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار قاسم کی 15 سالہ بیٹی صفیہ 15 مئی کو منگھوپیر کے علاقے سے لاپتہ ہوئی تھی۔ پولیس کو اطلاع دینے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس کے بعد سیشن عدالت کے احکامات پر مقدمہ درج کیا گیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں نامزد ملزم کے مطابق صفیہ کی رہائی کے بدلے 20 لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیا تھا، جس پر معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں مزید ہدایت کی کہ بازیاب ہونے والی بچی کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور پولیس نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...