کم بارشوں سے تھر خشک سالی کی لپیٹ میں ہے ، سٹیزن فورم
کسانوں کے کاشت کاری پر خرچ کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ بڑھ گیاحکومت تھر کوقحط زدہ قرار دے کر مویشیوں کیلئے فوری چارہ فراہم کرے، رہنما
تھرپارکر(نامہ نگار)تھر سٹیزن فورم کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ کم بارشیں ہونے سے تھر خشک سالی کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔ لاکھوں کسانوں کی جانب سے کاشتکاری پر خرچ کروڑوں روپے بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ تھر کو فوری طور پر قحط زدہ علاقہ قرار دیکر مویشیوں کیلئے چارہ فراہم کیا جائے ۔ اس سلسلے میں خشک سالی کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس سے تھر سٹیزن فورم کے چیئرمین اوہایو جونیجو، عظمیٰ ابڑو، اعجاز بجیراور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر کے ساتوں تعلقوں، ڈاہلی، ڈیپلو، مٹھی، کلوئی، چھاچھرو، نگرپارکر اور اسلام کوٹ میں بروقت بارشیں نہ ہونے کے باعث لاکھوں کسانوں کی جانب سے کروڑوں روپے خرچ کرکے کاشت کی گئی فصلیں اور بیج ضائع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مویشیوں کیلئے چارہ ختم ہونے کے باعث تھر کے لوگ اپنے مویشیوں کو لے کر بیراجی علاقوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔ رواں سال مون سون کی مناسب اور فائدہ مند بارشیں نہ ہونے سے تھر مکمل طور پر خشک سالی کی لپیٹ میں آچکا ہے ۔ رہنماؤں نے کہا کہ فورم وقتاً فوقتاً تھر کے مختلف مسائل پر آواز اٹھاتا رہا ہے اور خشک سالی کی صورتحال سے کمشنر میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر اور دیگر حکام کو بھی آگاہ کرتا رہا۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تھرپارکر کے ساتوں تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اور مختارکاروں کے ذریعے خشک سالی کی صورتحال کا سروے کرا کے رپورٹ مرتب نہیں کی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments