ڈاکٹرز کے خلاف کارروائیاں نظامِ صحت کیلئے خطرہ قرار

ڈاکٹرز کے خلاف کارروائیاں نظامِ صحت کیلئے خطرہ قرار

طبی شکایات پر فوجداری مقدمات،ناقابلِ ضمانت وارنٹ سے گریز کیا جائے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کاطبی بورڈ کی جانچ لازمی قرار دینے کا مطالبہ

کراچی (این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک میں صحت کی سہولیات کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ڈاکٹروں کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائیوں، انتظامی ناکامیوں اور قانونی دباؤ کے باعث نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر پہنچ رہا ہے ۔ ایسوسی ایشن کے مطابق سینئر ماہرین اور نوجوان ڈاکٹر ذہنی دباؤ، تضحیک اور کارروائیوں کے خوف کے باعث طبی خدمات چھوڑنے یا ملک سے باہر جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔پی ایم اے نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹروں، سرجنوں اور زیرِ تربیت طبی ماہرین کے خلاف علاج کے دوران پیش آنے والے نتائج پر قتل کے الزامات، تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302 اور 322 کے تحت مقدمات اور بھاری ہرجانے کے دعوے دائر کیے جا رہے ہیں۔ بعض واقعات میں اسپتالوں کے پورے شعبوں کے سینئر پروفیسرز، سربراہان، رجسٹرارز، زیرِ تربیت ڈاکٹروں اور ہاؤس آفیسرز کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری ہونے سے طبی عملے میں خوف کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق طبی شکایات کو متعلقہ ہیلتھ کیئر کمیشنز یا ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈز کے ذریعے جانچنے کے بجائے براہِ راست فوجداری عدالتوں میں لے جایا جا رہا ہے ، جس کے نتیجے میں ڈاکٹروں کو پولیس کارروائیوں اور گرفتاریوں کے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...