ہیوی ٹریفک کے ممنوعہ اوقات میں شہر داخلے پر مقدمات کا حکم
پبلک سروس وہیکلز، کمرشل گاڑیوں ،ہیوی ٹریفک کی خصوصی چیکنگ کے بھی احکامات، لاہور میں حادثات روکنے کیلئے صرف چالان کی بجائے مقدمات درج ہونگے مقررہ باڈی سے باہر سامان نکال کر لیجانے پربھی سخت کارروائی ہوگی ، فرائض میں غفلت برتنے پرسیکٹر انچارجز کیخلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی:سی ٹی اوعبدالرحیم
لاہور (کرائم رپورٹر)سی ٹی او لاہور عبدالرحیم شیرازی نے شہر میں ٹریفک حادثات کی روک تھام اور شہریوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کیلئے ممنوعہ اوقات میں ہیوی ٹریفک کے داخلے اور نقل و حرکت پرصرف چالان کرنے کی بجائے مقدمات درج کرنے کا حکم دیدیا۔ پبلک سروس وہیکلز، کمرشل گاڑیوں اور ہیوی ٹریفک کی خصوصی چیکنگ کے بھی احکامات جاری کر دئیے گئے ۔سی ٹی او کے مطابق لاہور میں دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی ہے۔ رات 11 بجے سے پہلے ہیوی ٹریفک کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں جبکہ صبح 7 بجے کے بعد بھی ہیوی گاڑیاں شہر میں داخل نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی سڑکوں پر چل سکتی ہیں۔
ممنوعہ اوقات میں ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر صرف چالان کرنے کی بجائے مقدمات درج کیے جائینگے۔ پابندی کے زمرے میں ٹریکٹر ٹرالیاں، ٹرالرز، ٹرک، لوڈرز اور تعمیراتی مشینری بھی شامل ہیں۔ رات کے وقت ہیوی ٹریفک کو قافلوں کی صورت میں مرحلہ وار شہر میں داخل کیا جا رہا ہے جبکہ آئل ٹینکرز کو بھی صرف مقررہ اوقات میں شہر میں داخلے اور نقل و حرکت کی اجازت ہے ۔سی ٹی او لاہور نے مقررہ باڈی سے باہر سامان نکال کر لے جانے والی گاڑیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی گاڑیاں ٹریفک حادثات کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے کمرشل اور ہیوی گاڑیوں کی مؤثر چیکنگ ناگزیر ہے۔
سی ٹی او کے مطابق ہیوی گاڑیاں مجموعی ٹریفک حجم کا صرف 4.5فیصد ہیں، تاہم یہ 44 فیصد حادثات میں ملوث پائی گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہیوی ٹریفک کی نگرانی اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔سی ٹی او نے خبردار کیا کہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے ، فرائض میں غفلت برتنے اور مؤثر کارروائی نہ کرنے والے سیکٹر انچارجز کیخلاف بھی محکمانہ کارروائی کی جائیگی۔ حادثات کی روک تھام اور شہریوں کے محفوظ سفر کیلئے مؤثر نگرانی اور سخت اقدامات کرنا ہونگے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments