شہریوں کیلئے ڈیجیٹل فائل پراسیسنگ سسٹم فعال نہ ہو سکا
شہری واسا، ٹیپا، ریونیو سے متعلق مسائل حل کیلئے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )لاہور میں شہریوں کی سہولت کیلئے متعارف کروایا گیا ڈیجیٹل فائل پراسیسنگ سسٹم فعال نہ ہو سکا۔سسٹم کو مؤثر بنانے کیلئے اسے اہم اداروں واسا، ٹیپا، بورڈ آف ریونیو اور پنجاب ریونیو اتھارٹی سے منسلک کرنے کا منصوبہ تو بنایا گیا مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔اداروں کے درمیان ڈیجیٹل رابطہ نہ ہونے پرفائلوں کی پراسیسنگ بدستور روایتی طریقہ کار کی محتاج ہے جس سے نا صرف وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ شہریوں کو واسا، ٹیپااور ریونیو سے متعلقمسائل حل کیلئے دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب یہ انکشاف سامنے آیا کہ ٹاؤن پلاننگ اور ہاؤسنگ ونگ جیسے اہم شعبوں میں بنیادی کمپیوٹر سسٹمز ہی دستیاب نہیں اورجہاں سسٹمز موجود ہیں وہاں بھی پرانے اور ناکارہ ہو چکے ہیں، اپ گریڈیشن کا عمل شروع نہ ہوسکا۔ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھنے کے باوجود انٹرنیٹ کی رفتار اور انفراسٹرکچر میں بہتری نہ آنے سے دفاتر میں کام کی رفتار مزید متاثر ہو رہی ہے ۔سسٹم سست روی کا شکار ہونے سے فائلوں کی ڈیجیٹل پراسیسنگ بھی طویل انتظار میں تبدیل ہو گئی ۔ مؤثر مانیٹرنگ سسٹم نہ ہونے سے افسروں اور عملے کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں اور احتساب کا عمل کمزور دکھائی دیتا ہے۔