داتا دربار کے سامنے پناہ گاہ توسیعی منصوبے کی نذر

داتا دربار کے سامنے پناہ گاہ توسیعی منصوبے کی نذر

نادار افراد اور مسافروں کے لئے 40کروڑسے تعمیر پناہ گاہ دربار و بھاٹی گیٹ توسیعی منصوبے کی زد میں آ گئی،مسماری شروع،متبادل سہولت فراہم نہ ہوسکی

لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور کے تاریخی مرکز میں فلاحی سہولت بڑے ترقیاتی منصوبے کی نذر ہو گئی،داتا دربار کے سامنے قائم پناہ گاہ کو مسمار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ 40کروڑ لاگت سے بننے والی یہ پناہ گاہ اب ماضی کا قصہ بن رہی ہے ،حکومت نے نادار افراد اور مسافروں کیلئے متبادل سہولت فراہم نہ کی، شہرکے مصروف ترین مقام داتا دربار کے سامنے قائم پناہ گاہ کو باقاعدہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے ۔ مسافروں اور مستحق افراد کیلئے بنائی گئی یہ سہولت اب دربار و بھاٹی گیٹ توسیعی منصوبے کی زد میں آ چکی ہے ۔یہ پناہ گاہ دو ہزار انیس میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں تعمیر کی گئی تھی جس پر سرکاری خزانے سے تقریباً 40کروڑ روپے خرچ کیے گئے ۔ اس فلاحی مرکز میں روزانہ سات سو افراد کو کھانا جبکہ ایک سو ستر افراد کو قیام کی سہولت دی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق داتا دربار تا بھاٹی گیٹ ری ویمپنگ منصوبے کے تحت اس مقام کو نئی شکل دی جا رہی ہے جہاں پناہ گاہ کی جگہ پارکنگ سہولت کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ مزید یہ کہ لہر اتھارٹی کی جانب سے اسی مقام پر زیر زمین پارکنگ پلازہ کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جس پناہ گاہ کو ایل ڈی اے اور ٹیپا نے تعمیر کیا، اب اسی کو انہی اداروں کے ذریعے مسمار بھی کیا جا رہا ہے جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کی ذمہ داری بھی ٹیپا کو سونپ دی گئی ہے ۔عجلت میں کیے گئے حکومتی فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیدیا۔ اس پناہ گاہ کے خاتمے کے بعد وہ افراد کہاں جائینگے جو یہاں روزانہ کھانے اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات سے مستفید ہو رہے تھے ۔ متبادل انتظامات بارے تاحال کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہ آ سکی۔ایک جانب شہر کی خوبصورتی اور انفراسٹرکچر کی بہتری ہے تو دوسری طرف مستحق طبقے کیلئے سہولت کا خاتمہ بڑا سوال بن چکا ہے ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں