انتظامی غفلت ،شہرمیں 280فلٹریشن پلانٹس غیر فعال

 انتظامی غفلت ،شہرمیں 280فلٹریشن پلانٹس غیر فعال

اداروں کی عدم دلچسپی سے شہریوں کوگرمی میں صاف پانی حصول کیلئے مشکلات

لاہور (سٹاف رپورٹر سے )لاہور میں پینے کے صاف پانی کیلئے لگائے گئے فلٹریشن پلانٹس انتظامی غفلت اور ادارہ جاتی عدم دلچسپی کا شکار ہو گئے ۔ ذرائع کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر 929فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے جن میں سے 280 غیر فعال ہیں جنکے مستقبل کا فیصلہ تاحال نہیں کیا جا سکا جس پر شہریوں کوگرمی میں صاف پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔متعدد بار ہدایات کے باوجود پنجاب صاف پانی اتھارٹی ان فلٹریشن پلانٹس کو مکمل فعال نہ کر سکی جبکہ واسا نے بھی انکی ذمہ داری لینے سے گریز کیا۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی حکومت نے بھی مرمت وبحالی کے اقدامات نہ اٹھائے۔ اعداد و شمار کے مطابق پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے زیر انتظام 121 فلٹریشن پلانٹس مکمل بند ہو چکے ہیں جن میں سے 80پلانٹس کو سکریپ کر کے عملاً لاوارث چھوڑ دیا گیا، باقی 41یونٹس پر خرچ ہونیوالے سرکاری فنڈز ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے زیر انتظام اسوقت صرف 89 فلٹریشن پلانٹس فعال ہیں جبکہ 121 میں سے 80 غیر فعال پلانٹس کی بحالی پر کام جاری ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تاہم زمینی حقائق اسکے برعکس ہیں ۔شہریوں کو تاحال صاف پانی کی سہولت نہیں مل سکی۔ فلٹریشن پلانٹس کو مرحلہ وار فعال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور انہیں صاف پانی اتھارٹی کے حوالے بھی کیا گیا مگر اسکے باوجود عملی نتائج سامنے نہ آ سکے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں