روڈ سیکٹرکیلئے 145ارب طلب،80ارب کی سکیمیں ملنے کا امکان
آئندہ ترقیاتی بجٹ پر مالی دباؤ مزید بڑھنے لگا، 3میگا پراجیکٹس کو ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور
لاہور (شیخ زین العابدین)پنجاب کے ترقیاتی بجٹ پر مالی دباؤ مزید بڑھنے لگا، آئندہ مالی سال میں سڑکوں کے شعبے کو بڑے مالی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے ۔محکمہ مواصلات و تعمیرات نے روڈ سیکٹر کیلئے 145 ارب روپے مانگ لیے مگر دستیاب وسائل اس ہدف سے خاصے کم دکھائی دے رہے ہیں۔دوسری جانب لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ فور اور سیالکوٹ رنگ روڈ جیسے میگا منصوبے بھی ترقیاتی ترجیحات میں شامل کر لیے گئے ۔ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے آئندہ مالی سال کیلئے 145ارب کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز پیش کی ہے مگر دستیاب مالی گنجائش پرروڈ سیکٹر کو تقریباً 80ارب کی سکیمیں ملنے کا امکان ہے ۔
آئندہ مالی سال میں کم از کم 3میگا پراجیکٹس کو ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاہم ان کیلئے ایک ہی مالی سال میں مکمل فنڈنگ فراہم کرنے کی بجائے انہیں 3سالہ پروگرام کے تحت مرحلہ وار مکمل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کا امکان ہے ۔ان منصوبوں میں لاہور رنگ روڈ کا سدرن لوپ فور خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔ تقریباً18کلومیٹر طویل یہ منصوبہ شاہکام چوک سے باظرلبانہ شرقپور روڈ تک تعمیر ہوگا۔ دریائے راوی پرجدید پل اور سٹیٹ آف دی آرٹ سروس ایریا کی تعمیر بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر45ارب روپے کے اس منصوبے کو دو سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔اسی طرح 50 ارب کے سیالکوٹ رنگ روڈ منصوبے کو بھی آئندہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے ۔