محکمہ اوقاف کے 3سابق ملازمین کوسزائوں، ریکوری کاحکم
حافظ جاویدشوکت ، شیخ جمیل ، طاہر مقصود کروڑوں کی بے ضابطگیوں میں ملوث
لاہور(سیاسی نمائندہ)سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ (مجاز اتھارٹی)نے سپیشل آڈٹ کمیٹی کی رپورٹ، انکوائری افسروں کی جانب سے ملازمین کو ذاتی سماعت کا موقع دینے کے بعد مرتب کردہ حتمی سفارشات کی روشنی میں عرس حضرت داتا گنج بخشؒ (2025)اور عید میلاد النبیؐ (2024)کے کروڑوں کے فنڈز میں سنگین مالی بدعنوانی، مس کنڈکٹ اور کرپشن ثابت ہونے پر محکمہ اوقاف کے تین سابق ملازمین کیخلاف پیڈا ایکٹ 2006کے تحت سخت محکمانہ سزاؤں اور بھاری ریکوری کے فائنل احکامات جاری کر دیئے ۔ سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر مذہبی امور حافظ جاوید شوکت ، شیخ جمیل (سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار)اور طاہر مقصود (سابق منیجر داتا دربار)کیخلاف تمام الزامات ثابت ہو گئے جس پر مجاز اتھارٹی نے شیخ جمیل کو مؤثر سپروائزری کنٹرول میں مجرمانہ غفلت پر 5 سال ملازمت میں تنزلی اور 2,807,386 روپے ریکوری، طاہر مقصود کی 3 سال نچلے عہدے پر تنزلی اور 1,871,591 روپے ریکوری کی سزا سنائی۔ سیکرٹری اوقاف نے سنگین مالیاتی جرائم پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو علیحدہ ریفرنس بھیجنے ، مفتی رمضان سیالوی (سابق خطیب داتا دربار) کیخلاف مبینہ طور پر حافظ جاوید شوکت سے بین الاقوامی دورے کے نام پر وصول کردہ 2.60 ملین روپے کی فنڈز تقسیم کے حوالے سے الگ آزادانہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع اور اسوقت کے سیکرٹری (سابق چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف)اور سابق ڈی جی مذہبی امور کے کردار کا تعین کرنے کیلئے علیحدہ انکوائری شروع کرنے کے احکامات جاری کیے ۔