ذہنی صحت ،تشدد کے خاتمہ کیلئے مشترکہ اقدامات ناگزیر

ذہنی صحت ،تشدد کے خاتمہ کیلئے مشترکہ اقدامات ناگزیر

ذہنی صحت ،تشدد کے خاتمہ کیلئے مشترکہ اقدامات ناگزیرویمن یونیورسٹی کی دو روزہ عالمی کانفرنس، اعلامیہ میں اہم سفارشات پیش

ملتان (خصوصی رپورٹر) دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اپلائیڈ سائیکالوجی کے زیر اہتمام \"وائلنس اینڈ مینٹل ہیلتھ: پریوینشن، انٹروینشن اینڈ کمیونٹی ایکشن\" کے عنوان سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔ اختتامی روز ذہنی صحت، تشدد کی روک تھام، سماجی رویوں کی اصلاح اور کمیونٹی سطح پر آگاہی سے متعلق مختلف سیشنز منعقد ہوئے جن میں محققین نے اپنے تحقیقی مقالے اور سفارشات پیش کیں۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے کہا کہ تشدد نہ صرف ایک سماجی برائی بلکہ ایک سنگین نفسیاتی مسئلہ بھی ہے جو فرد، خاندان اور معاشرے کی ذہنی و جذباتی صحت کو متاثر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو ذہنی صحت اور سماجی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر حسّان خلیق قریشی نے کہا کہ ذہنی صحت موجودہ دور کا اہم عالمی مسئلہ ہے جس کے حل کیلئے سنجیدہ تحقیق اور اجتماعی اقدامات ضروری ہیں۔ ٹائمز یونیورسٹی ملتان کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شوقت ملک نے کہا کہ طلبہ کی شخصیت سازی میں اساتذہ اور کونسلنگ نظام بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے تعلیمی اداروں میں نفسیاتی معاونت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے ۔کانفرنس میں 130 تحقیقی خلاصے پیش کیے گئے جن میں ذہنی دباؤ، تشدد، صنفی عدم مساوات، کرائسس انٹروینشن اور کمیونٹی بیسڈ ذہنی صحت جیسے موضوعات شامل تھے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں